رمضان المبارک میں کون سے خشک میوہ جات اور کتنے کھانے چاہئیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

خشک میوہ جات، یا "خشاف" جیسا کہ اسے مصر میں کہتے ہیں۔ تقریباً ہر رمضان کی افطاری کے دسترخوان پر لازمی ہوتے ہیں۔

اسی طرح رمضان میں سحری کے لیے یہ لازم و ملزوم ہیں۔

خشک میوہ جات میں وٹامنز، پروٹین اور غذائی ریشہ ہوتا ہے اور یہ زیادہ کیلوری والے ناشتے کا مثالی متبادل ہیں۔ خشک میوہ جات رمضان میں مٹھائیوں کا بہترین صحت مند متبادل بھی ہیں۔

رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں غذائی ماہرین کے مطابق خشک میوہ جات کھانے سے جسم کو قدرتی شکر فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے جو کہ توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ تاہم، اسے اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے اور زیادتی سے بچنا چاہیے۔

خشک میوہ قدرتی پھل ہیں جنہیں خشک کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے ان کے اندر موجود پانی کی مقدار ختم ہو جاتی ہے، اور وہ اس عمل کے دوران سکڑ کر چھوٹے اور توانائی سے بھرپور ہو جاتے ہیں۔خشک میوہ جات کی بہت سی اقسام ہیں، اور سب سے عام قسمیں، خاص طور پر رمضان کے مہینے میں استعمال ہونے والی کشمش، کھجور، آڑو، انجیر اور خوبانی وغیرہ ہیں۔

جو چیز خشک میوہ جات کو تازہ پھلوں سے نمایاں کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انہیں طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ انہیں سنیکس کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے اور انہیں فریج میں رکھنے کی ضرورت کے بغیر طویل فاصلے تک لے جایا جا سکتا ہے۔

اس میں پیچیدہ اور سادہ کاربوہائیڈریٹس، فائبر، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ جسم کو روزے کے اوقات میں ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتا ہے۔

خشک میوہ جات بہت سے مسائل جیسے کہ موڈ کو بہتر بنانے، جلد کی صحت کو بڑھا کر عمر میں کم نظر آنے کے لیے، ہاضمہ کو بہتر بنانے میں معاون ہیں۔ یہ بے چینی اور ڈپریشن کا بھی علاج ہیں۔ سب سے زیادہ مقبول خشک میوہ جات مندرجہ ذیل ہیں:

کھجور۔ آئیسٹوک
کھجور۔ آئیسٹوک

1) کھجور

یہ آئرن کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور شکر سے بھرپور ہے۔ فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے قبض ہونے سے روکتی ہے۔یہ چکر اور سر درد کا بھی علاج ہے، جسمانی توازن کو یقینی بناتی ہے، جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے۔

خوبانی
خوبانی

2) خوبانی

یہ بینائی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ یہ وٹامن اے اور ای سے بھرپور ہوتا ہے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے، اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے، اور نظام ہضم کو بہتر کرتی ہے، جس سے قبض کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ یہ جلد کی نگہداشت اور ہڈیوں کی صحت کے لیے بھی بہترین ہے۔

کشمش
کشمش

3) کشمش

یہ ہاضمے میں معاون ہے کیونکہ اس میں فائبر ہوتا ہے، وٹامن بی سے بھرپور ہونے کی وجہ سے اعصابی افعال کو بڑھاتی ہے، اور ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے کیونکہ اس میں پوٹاشیم، کیلشیم اور فاسفورس جیسے متعدد معدنیات موجود ہوتے ہیں۔

خشک انجیر
خشک انجیر

4) انجیر

یہ قبض سے بچاتی ہے کیونکہ یہ فائبر سے بھرپور ہے، خون میں شکر کی سطح کو برقرار رکھتی ہے کیونکہ اس میں پوٹاشیم ہوتا ہے، اور خون میں کولیسٹرول کو کم کرتی ہے کیونکہ یہ فائبر سے بھرپور ہوتی ہے۔

5) آڑو

اس میں بہت سے وٹامنز اور معدنیات پائے جاتے ہیں جو کہ صحت کے لیے اہم ہیں۔ اس میں غذائی ریشہ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو قبض سے بچاتا ہے۔خشک آڑو میں ایک قسم کی شکر بھی ہوتی ہے جسے سوربیٹول کہا جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال نہ کریں، کیونکہ اس سے اسہال ہو سکتا ہے۔

خشک آڑو میں وٹامن کے اور دیگر مرکبات ہوتے ہیں جو اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں، جو ہڈیوں کی کثافت کھونے سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

اس میں اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو جسم میں نقصان دہ فری ریڈیکلز کے کردار سے لڑنے اور اسے بے اثر کرنے کے عمل میں اہم ہیں۔

یہ وزن کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے اور اسے کھانے سے آپ کو طویل عرصے تک پیٹ بھرنے کا احساس ہوتا ہے۔

خشک آڑو کھانے سے دل کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے، عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرتا ہے، خاص طور پر قبل از وقت بڑھاپا، اور بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرتا ہے۔

اہم مشورہ

ان تمام فوائد کے ساتھ ڈاکٹرز اور غذائیت کے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ خشک میوہ جات زیادہ نہ کھائیں بلکہ انہیں اعتدال میں کھائیں۔ ہر قسم کی زیادہ سے زیادہ 2 یا 3 بیج کافی ہیں اسی طرح ایک کھانے کا چمچ کشمش روزانہ لی جاسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں