امریکی سینٹ کام نے بتایا ہے کہ تیز لہروں کی وجہ سے غزہ کی تیرتی عارضی گھاٹ کا کچھ حصہ منہدم ہوگیا اور چار امریکی بحری جہازوں کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ امریکی جہاز غزہ میں انسانی امداد کے مشن پر مامور تھے۔ سینٹ کام نے یہ بھی کہا کہ بحری جہاز اپنے لنگر سے الگ ہو گئے۔ دو جہاز اب غزہ میں گھاٹ کے قریب ساحل سمندر پر لنگر انداز ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ تیسرا اور چوتھا بحری جہاز اس وقت اسرائیل کے ساحل سمندر پر اشکلون بندرگاہ سے دور ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی بحریہ کی مدد سے بحری جہازوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اقوام متحدہ نے کل جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ 97 امدادی ٹرک عارضی امریکی گھاٹ کے راستے غزہ پہنچے ہیں۔ اس عارضی بندرگاہ یا گھاٹ کی تعمیر مہینوں پہلے شروع ہوئی تھی۔ اب اس کا کچھ حصہ تیز لہروں میں بہ گیا ہے۔
العربیہ کے نامہ نگار نے ہفتہ کو اطلاع دی کہ بندرگاہ کا وہ حصہ منہدم ہو کر اشدود کے ساحلوں تک پہنچ گیا۔ امریکی بحریہ کے بحری جہاز واپس آگئے اور منہدم ہونے والے گھاٹ کا کچھ حصہ نکال لیا۔ خیال رہے امریکہ نے اس گھاٹ کی تعمیر گزشتہ ہفتے مکمل کی تھی۔ صدر جو بائیڈن نے مارچ میں اس گھاٹ کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔
اس عارضی تیرتی ہوئی گھاٹ کا مقصد اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کو زمینی راستے سے امداد کی ترسیل پر پابندیوں کی تلافی کرنا ہے۔