60 سال کی عمر میں اس سے ملنے اور مصنوعی ذہانت سے بات کرنے کا تصور کیا تھا؟

’’فیوچر یو‘‘ صارف کو ساٹھ سال کی عمر کے اپنے ورچوئل ورژن کے ساتھ قدرتی گفتگو کرنے کا موقع دے رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ چند دہائیوں میں آپ کی زندگی کیسی ہوگی؟ کیا آپ نے اپنے آپ کو ساٹھ سال کی عمر میں تصور کیا ہے؟ تصور کریں کہ کیا آپ مستقبل میں اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلوں کے بارے میں اپنے آپ سے مشورہ کر سکتے ہیں۔ اب مصنوعی ذہانت کی ترقی کی بدولت یہ تصور محض ایک خیالی بات نہیں ہے۔

میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور دیگر اداروں کے محققین نے ’’ فیوچر یو‘‘ کے نام سے ایک جدید نظام تیار کیا ہے جس کی مدد سے صارف ساٹھ سال کی عمر کے اپنے ایک ورچوئل ورژن کے ساتھ فطری گفتگو کر سکتا ہے۔ اس نظام کا مقصد نوجوانوں کو مستقبل میں خود کے تسلسل کے احساس کو بہتر بنانے میں مدد کرنا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی اصطلاح ہے جو مستقبل میں کسی فرد کے اپنے آپ سے تعلق کو قائم کرتی ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مستقبل میں خود میں تسلسل کا مضبوط احساس مثبت طور پر اثر انداز ہو سکتا ہے کہ لوگ کس طرح طویل مدتی فیصلے کرتے ہیں۔ مالی منصوبہ بندی سے لے کر تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابی حاصل کرنے تک کے فیصلوں کے حوالے سے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

’’فیوچر یو‘‘ سسٹم صارف کی طرف سے فراہم کردہ معلومات پر مبنی ایک بڑے لسانی ماڈل کا استعمال کرتا ہے۔ اس کی دلچسپیاں، اہداف اور یہاں تک کہ یادیں استعمال کی جاتی ہیں۔ ساٹھ سال کی عمر میں فرد کا ورچوئل ورژن تیار کرنے کے لیے صارف اس نظام کے ساتھ تعامل کر سکتا ہے۔ سوال پوچھ کر اور اپنی زندگی کے ممکنہ مستقبل کے بارے میں تفصیلی جوابات حاصل کر کے ورچوئل ورژن سے بات چیت کی جاسکتی ہے۔

یہ ورچوئل ورژن ایک رہنما کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ ذاتی مشورے پیش کر سکتا ہے۔ مستقبل کے بارے میں سوالات کے جوابات دے سکتا ہے۔ موجودہ فیصلے مستقبل پر کس طرح اثر انداز ہوں گے اس کے بارے میں بصیرت فراہم کر سکتا ہے۔ اس سے صارف کو مزید باخبر مستقبل کا انتخاب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ٹائم ٹریول اب بھی ایک خیالی چیز ہے لیکن مصنوعی ذہانت ایک قسم کی ورچوئل ٹائم مشین ہو سکتی ہے۔ پیٹ پٹارانوٹاپورن، جو ایم آئی ٹی میں ہیومن-اے آئی کے محقق اور ’’فیوچر یو‘‘ پیپر ٹوڈے کے شریک مصنف ہیں، کہتے ہیں مستقبل سے متعلق یہ ٹول ہمارے انتخاب کے ممکنہ نتائج کی تقلید کرتے ہوئے مزید باخبر فیصلے کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کا فائدہ کیا ہے؟

344 شرکا کے مطالعے میں محققین اس نظام کے اثرات کو ان کے مستقبل کے بارے میں افراد کے تصورات پر پیمائش کرنے کے قابل تھے۔ محققین نے شرکا کو 3 گروپوں میں تقسیم کیا۔ پہلے گروپ نے 10 سے 30 منٹ تک کے درمیان بات چیت کی۔ تیسرے گروپ نے ایک سوالنامہ میں مستقبل کے بارے میں سوالات کا جواب دیا۔

اس مطالعے کے نتائج دلچسپ تھے۔ شرکا مستقبل کے بارے میں کم فکر مند محسوس کرتے تھے اور اپنے اہداف کو حاصل کرنے کی اپنی صلاحیت پر زیادہ اعتماد رکھتے تھے۔ مزید برآں انہوں نے اپنی مجازی ذات کے ساتھ گفتگو کو ایماندارانہ اور متحرک قرار دیا۔ انہوں نے کہا یہ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے آپ کسی قریبی دوست یا سرپرست سے بات کر رہے ہوں۔

یہ نظام کیوں کام کرتا تھا؟

مستقبل کے ساتھ تعلق: Future You مستقبل کے امکانات کو دریافت کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ جس سے افراد کو خود کو مزید گہرائی سے سمجھنے اور اہداف کو واضح طور پر طے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اضطراب سے بالاتر: اپنے مستقبل کے خود کے مجازی ورژن کے ساتھ بات چیت کرکے افراد اپنے مستقبل کے خوف پر قابو پا سکتے ہیں اور اپنے موجودہ اہداف کو حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔

خود اعتمادی میں اضافہ: یہ نظام افراد کو مستقبل میں خود کو مثبت انداز میں تصور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی اور چیلنجوں پر قابو پانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

مستقبل کی ایپلی کیشنز

محققین اب سسٹم میں صارف کے تجربے کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ فراہم کردہ سیاق و سباق اور ہدایات کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے صارفین کو گہری گفتگو کرنے کی ترغیب دینے کے لیے مستقبل میں خود کے تسلسل کے احساس کو بڑھا رہے ہیں۔ عام سوالات کے بجائے بامعنی موضوعات کی طرف براہ راست گفتگو کی طرف آگے بڑھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

محققین اس ٹیکنالوجی کو ذمہ داری سے استعمال کرنے کی اہمیت کو بھی تسلیم کر رہے ہیں اور اس نظام کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں۔ مستقبل میں محققین کا مقصد اس ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں لاگو کرنا ہے۔ ممکنہ کیریئر کے راستے تلاش کرنے یا ماحول پر موجودہ فیصلوں کے اثرات کو سمجھنے میں اس نظام سے فائدے کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی طرف جایا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size