کونسی جنگیں اور ٹائم بم ٹرمپ کا انتظار کر رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں، نئے اتحادوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی اور ان کی خارجہ پالیسی کے اثرات کی روشنی میں اب تک اس بات کا امکان دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ سال 2025 اپنے سے پہلے سالوں کے مقابلے میں کم افراتفری والا ہوگا۔ ریپبلکن ارب پتی امیدوار کے غیر متوقع ہونے کو مد نظر رکھتے ہوئے اگرچہ ہر چیز کا تجزیہ نہیں کیا جا سکتا تاہم اتنا اندازہ ہوتاہے ٹرمپ کی سفارت کاری کا دنیا کی اعلیٰ طاقت کی قیادت پراثرات مرتب ہوں گے۔ خاص طور یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے دو بڑے بین الاقوامی بحرانوں پر ٹرمپ کی آمد کے اثرات مرتب ہوں گے۔

روس اور شمالی کوریا اور روس اور ایران کے درمیان بننے والے اتحاد کے بھی دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ 20 جنوری 2025 کو وائٹ ہاؤس واپسی پر ٹرمپ کو جن "ہاٹ سپاٹس" کا سامنا کرنا پڑے گا، ان میں "مشرق وسطی" بھی شامل ہے۔

غزہ جنگ

سات اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی اڈوں اور بستیوں پر حماس کے حملے کے بعد سے یہ خطہ آگ کی لپیٹ میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حماس اور حزب اللہ کے اہم حامی ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اب بھی قابو میں ہے لیکن یہ کب تک جاری رہ سکتا ہے؟ ۔ خاص طور پر چونکہ اسرائیلی حکومت، جو زمین پر اپنی فتوحات پر خوش ہے، غزہ میں سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے کم تیار نظر آرہی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے بغیر کسی تحفظات کے حامیوں کی تقرری کی جاری ہے جیسا کہ مائیک ہکابی کی تعیناتی کی گئی۔ اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ اسرائیل میں مستقبل کے امریکی سفیر جو تصفیہ کی حمایت کرتے ہیں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو کچھ بھی کرنے کا ایک بلینک چیک دے دیا ہے۔۔

اس تناظر میں سیکورٹی کنسلٹنگ فرم لی بیک انٹرنیشنل کے تجزیہ کار مائیکل ہورووٹز نے کہا ہے کہ غزہ کا تنازع ایک طرح سے تعطل کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ اسرائیل نے فوجی حل مسلط کر دیا اور اپنی افواج کو پٹی کے اندر رکھا ہے۔ اس دوران کسی سیاسی حل کی شروعات نہیں کی جارہی ہے۔

یوکرین پریشان

ٹرمپ کی آمد کے بعد یوکرین روس کے ساتھ جنگ کے تیسرے سال میں داخل ہو جائے گا۔ کیف کو جنگجوؤں کی کمی کے ساتھ ایک بہت ہی مشکل صورتحال کا سامنا اس لیے ہے کہ وہ روسی افواج کے مقابلے میں مغربی امداد پر انحصار کرتا ہے۔ روس مزید علاقے پر قبضہ کر رہا ہے اور اسے شمالی کوریا سے گولہ بارود اور فوجیوں کے ساتھ مضبوط کیا جا رہا ہے. اس دوران کییف پر مذاکرات کے لیے دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ٹرمپ نے انتخابات سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ اس مسئلے کو 24 گھنٹوں کے اندر حل کر دیں گے۔

ٹرمپ کی اپنی پہلی مدت کے دوران روسی صدر کے حوالے سے خوش فہمی، ان کی اگلی حکومت میں تلسی گبارڈ جیسے یوکرینی ناقدین کی تقرری اور سب سے بڑھ کر امریکی فوجی مدد روکنے کے امکانات سے لگتا ہے کہ کیف کو بدترین خوف میں دھکیلا جارہا ہے۔ اس بنیاد پر یہ پیشین گوئی کرنا مشکل ہے کہ اگلے امریکی صدر جو کہ لین دین کی سفارت کاری کی حمایت کے لیے مشہور ہیں، کریں گے۔ کسی بھی صورت میں 2025 یوکرین کے لیے بہت اہم ہو گا۔ یوکرین کی صورت حال کا انحصار واشنگٹن کے دباؤ اور کیف کی حمایت کرنے کی یورپ کی صلاحیت پر ہوگا۔

شمالی کوریا

جہاں تک شمالی کوریا کا تعلق ہے امریکہ اور مغرب اس کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ بند جوہری ہتھیاروں سے لیس اس ملک کی نقل و حرکت نے بہت سے خدشات پیدا کیے ہیں۔ پیانگ یانگ نے 2024 میں اپنے بیلسٹک میزائل تجربات کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ ایران کی طرح شمالی کوریا بھی ماسکو کے ساتھ ایک بے مثال ہم آہنگی کی حد تک پہنچ گیا ہے۔ اس نے ماسکو کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے اور ایک بے مثال اقدام میں اس نے تقریباً دس ہزار فوجی یوکرین میں لڑنے کے لیے بھیجے ہیں۔

اس تناظر میں کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ایک محقق فیوڈور ٹریٹسکی نے کہا ہے کہ پوتین شمالی کوریا سے فوجی اور گولہ بارود چاہتا ہے۔ پیونگ یانگ بدلے میں فوجی ٹیکنالوجی چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں شمالی کوریا کی جانب سے ایسے اقدامات کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے جن کا ہم نے پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کے ساتھ دوبارہ اتحاد کا کوئی بھی خیال ترک کر دیا ہے۔

تائیوان اور بیجنگ

ایشیا میں تائیوان کا مسئلہ اب بھی مستقبل میں عالمی تنازعے کے خدشات کو پیدا کر رہا ہے۔ خاص طور پر چین کے اس اصرار کے ساتھ کہ یہ جزیرہ اس کی سرزمین کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں اس نے اپنا فوجی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ چین جنگی طیارے، ڈرون اور بحری جہاز تقریباً روزانہ کی بنیاد پر جزیرے کے گرد بھیج رہا ہے۔ امریکہ تائیوان کا اہم سکیورٹی اتحادی ہے حالانکہ وہ اس جزیرے کو سفارتی طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے۔

ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز نے یکساں طور پر بیجنگ کے حوالے سے ایک ہی مخالفانہ رویہ اپنایا ہے۔ مارکو روبیو، ڈونلڈ ٹرمپ کے اگلے وزیر خارجہ، بیجنگ مخالف شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ماضی میں ان پر چینی سرزمین میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

اپنی طرف سے مائیک والٹز جو وائٹ ہاؤس میں اسٹریٹجک نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کے عہدے پر فائز ہیں نے پہلے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن "چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ سرد جنگ" میں ہے۔ انہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے خطرے کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ کئی دھماکہ خیز فائلیں وائٹ ہاؤس کے نئے رہائشی ٹرمپ کی منتظر ہیں۔ سوچنا یہ ہے کہ کیا وہ ان ٹائم بموں کو ناکارہ بنا سکیں گے؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size