لیبیا میں جہاں کچھ عرصہ قبل بعض شہروں میں آگ لگنے کے واقعات دیکھے گئے وہاں ملک کے اعلی تعلیم کے وزیر عمران القیب کے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کر دکھایا۔
مذکورہ وزیر کے مطابق دار الحکومت طرابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے الاصابعہ میں شہریوں کے گھروں کو لپیٹ میں لینے والی آگ کی وجہ ... الرحیبات کے علاقے کے نزدیک آنے والا زلزلہ تھا۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 3.5 تھی اور اس کی گہرائی پانچ کلومیٹر تھی۔
لیبیائی وزیر نے مزید کہا کہ زلزلے کی وجہ سے زمین میں دراڑیں پیدا ہوئیں جس نے آتش گیر میتھین گیس کے اخراج میں مدد دی۔ متعلقہ ادارہ علاقے میں گیس کا پتا چلانے میں کامیاب ہو گیا۔
ادھر قومی حکومت کے سربراہ عبدالحمید الدبیبہ نے اعلیٰ تعلیم کے وزیر کے انکشاف پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے "حتمی تحقیقات کے بغیر عجلت میں دیا گیا بیان" قرار دیا۔
الدبیبہ نے کل جمعے کے روز باور کرایا کہ حکومت درست سرکاری بیانات جاری کرنے کی پابند ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ غیر ذمے دارانہ بیانات دینے سے گریز کیا جائے۔
حکام کے مطابق الاصابعہ قصبے کے واقعات کے حوالے سے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ متاثرین کو شفاف طریقہ کار کے ذریعے زر تلافی ادا کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری انجام دی جا رہی ہے۔
حکومت کے سربراہ کے مطابق اپنے دائرے سے تجاوز کرنے والے کسی بھی ذمے دار کو قانونی پوچھ گچھ کا سامنا ہو گا۔ مزید یہ کہ سرکاری معلومات کی بنیاد پر نہ دیے جانے والے بیانات کے نتیجے میں افواہیں پھیلتی ہیں۔
رواں ہفتے کے آغاز پر مصراتہ اور الاصابعہ میں آگیں بھڑک اٹھیں جن کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ ان واقعات کے سبب شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
بالخصوص الاصابعہ قصبے کے لوگوں کو اس آگ کی کوئی وجہ سمجھ نہ آ سکی یہاں تک کہ بعض نے اس حوالے سے "جنوں کے وجود" کا شوشا چھوڑ دیا!