جِنوں کے بعد زلزلہ ذمے دار قرار، لیبیا میں آگ کے واقعات کی انوکھی وجوہات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لیبیا میں جہاں کچھ عرصہ قبل بعض شہروں میں آگ لگنے کے واقعات دیکھے گئے وہاں ملک کے اعلی تعلیم کے وزیر عمران القیب کے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کر دکھایا۔

مذکورہ وزیر کے مطابق دار الحکومت طرابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبے الاصابعہ میں شہریوں کے گھروں کو لپیٹ میں لینے والی آگ کی وجہ ... الرحیبات کے علاقے کے نزدیک آنے والا زلزلہ تھا۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 3.5 تھی اور اس کی گہرائی پانچ کلومیٹر تھی۔

لیبیائی وزیر نے مزید کہا کہ زلزلے کی وجہ سے زمین میں دراڑیں پیدا ہوئیں جس نے آتش گیر میتھین گیس کے اخراج میں مدد دی۔ متعلقہ ادارہ علاقے میں گیس کا پتا چلانے میں کامیاب ہو گیا۔

ادھر قومی حکومت کے سربراہ عبدالحمید الدبیبہ نے اعلیٰ تعلیم کے وزیر کے انکشاف پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے "حتمی تحقیقات کے بغیر عجلت میں دیا گیا بیان" قرار دیا۔

الدبیبہ نے کل جمعے کے روز باور کرایا کہ حکومت درست سرکاری بیانات جاری کرنے کی پابند ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ غیر ذمے دارانہ بیانات دینے سے گریز کیا جائے۔

حکام کے مطابق الاصابعہ قصبے کے واقعات کے حوالے سے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ متاثرین کو شفاف طریقہ کار کے ذریعے زر تلافی ادا کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری انجام دی جا رہی ہے۔

عبد الحميد الدبيبة
عبد الحميد الدبيبة

حکومت کے سربراہ کے مطابق اپنے دائرے سے تجاوز کرنے والے کسی بھی ذمے دار کو قانونی پوچھ گچھ کا سامنا ہو گا۔ مزید یہ کہ سرکاری معلومات کی بنیاد پر نہ دیے جانے والے بیانات کے نتیجے میں افواہیں پھیلتی ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز پر مصراتہ اور الاصابعہ میں آگیں بھڑک اٹھیں جن کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ ان واقعات کے سبب شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

بالخصوص الاصابعہ قصبے کے لوگوں کو اس آگ کی کوئی وجہ سمجھ نہ آ سکی یہاں تک کہ بعض نے اس حوالے سے "جنوں کے وجود" کا شوشا چھوڑ دیا!

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں