نئی تحقیق کا انتباہ: طویل مدت تک بیٹھے رہنے کی عادت الزائمر کا سبب بن سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد طویل وقت تک دفتر کی میز کے گرد بیٹھ کر وقت گزارتے ہیں، حالانکہ متعدد طبی تحقیقات اس دوران بھی جسم کو حرکت دینے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔

لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس طرزِ عمل کے بڑے نقصان کو ظاہر کیا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ طویل عرصے تک بیٹھے رہنے سے دماغ کے حجم میں کمی واقع ہوتی ہے، چاہے انسان ماہرین کی تجویز کردہ مدت کے مطابق ورزش ہی کیوں نہ کرتا ہو۔

سائنسی جریدے Dementia & lzheimer’s میں شائع ہونے والی حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو افراد طویل وقت تک بیٹھے رہتے ہیں، اُن میں دماغی افعال کی کارکردگی میں کمی اور دماغ کا حجم سکڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، چاہے وہ ہفتے میں 150 منٹ تک جسمانی ورزش ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔

اس تحقیق میں 400 سے زائد بالغ افراد شامل تھے، جن کی عمر پچاس سال یا اس سے زیادہ تھی، جنہیں ایک ہفتے کے دوران ان کی جسمانی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے والے آلات پہنائے گئے۔ ان افراد کو سات سال تک مختلف عصبی، نفسیاتی ٹیسٹوں اور دماغی اسکینز سے بھی گزارا گیا۔

دماغ کے حجم میں سکڑاؤ

تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم حرکت والی زندگی گزارنے والے افراد کے دماغ کے حجم میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی یادداشت، توجہ، اور معلومات کو یاد کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ تیزی سے ذہنی زوال خاص طور پر ان افراد میں دیکھی گئی جن کا طرزِ زندگی زیادہ تر بیٹھے رہنے پر مشتمل تھا، یعنی وہ لمبے عرصے تک بغیر کسی جسمانی سرگرمی کے بیٹھے رہتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کمی کا اثر ان لوگوں میں بھی پایا گیا جن کی اکثریت (87 فیصد) باقاعدہ جسمانی ورزش کرتی تھی اور ماہرین کی تجویز کردہ ورزش کے معیار پر عمل پیرا تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف ورزش کرنا ہی کافی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں زیادہ متحرک رہنا بھی دماغ کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

امریکی یونیورسٹی وینڈربیلت کے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے بتایا کہ اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے کے وقت کو کم کرنا دماغی اعصابی افعال کے خراب ہونے سے بچاؤ کا ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم بیٹھنے کے دوران وقفے لیں اور زیادہ حرکت کریں تو دماغ کی یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کو بہتر رکھا جا سکتا ہے اور اس کے خراب ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔یہ بات معروف میڈیکل تحقیقاتی ویب سائٹ "ہیلتھ ڈے" نے بھی اپنی رپورٹ میں شامل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں