ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے تحت تیار کردہ مفاہمت کی یاد داشت کے مسودے میں کچھ ایسی ابہام موجود ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔
جمعرات کے روز سرکاری ٹیلی ویژن کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی شرائط منوانے کے لیے ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ تہران کی شرائط کو غیر واضح رکھا جا رہا ہے۔
ایرانی اثاثوں کی رہائی کے حوالے سے ایک با خبر ذریعے نے جمعرات کے اوائل میں انکشاف کیا کہ امریکی صدر نے بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کو تہران کے ساتھ عبوری معاہدے پر دستخط سے مشروط کر دیا ہے۔
ذریعے نے العربیہ/الحدث کو تصدیق کی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثوں کو واضح کر دیا ہے کہ معاہدے پر دستخط سے پہلے منجمد رقوم جاری نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی رکاوٹ منجمد رقوم کے ایک حصے کو استعمال کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں ہے، اور ان رقوم کو جمع کرنے کے لیے ایک خصوصی فنڈ کے قیام کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ فی الحال اس رقم کا کچھ حصہ جاری کرنے کے طریقہ کار پر غور جاری ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کی شام تصدیق کی کہ امریکہ کے ساتھ عبوری امن معاہدے کے حوالے سے حالیہ مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود لبنان میں لڑائی جاری ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عراقچی نے کہا کہ مذاکراتی عمل میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر نے اس ہفتے کے آخر تک معاہدے کے امکان کا اشارہ دیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ پاکستان کے زیر نگرانی دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں اعلیٰ افزودہ یورینیم کا معاملہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران نے ابھی تک امن معاہدے پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔
یاد رہے کہ کئی ہفتوں سے ایران اور امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہیں۔ اگرچہ گذشتہ ہفتے امید کی کرنیں نظر آ رہی تھیں، تاہم پریس اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے زیر بحث تازہ ترین تجویز میں مزید سخت ترامیم شامل کر دی ہیں، جبکہ تہران نے ابھی تک اپنا جواب نہیں دیا ہے۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان حملوں کے تبادلے اور ایران کی جانب سے کویت، بالخصوص ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے بعد زمینی صورت حال کشیدہ ہو گئی ہے۔