سعودی آرٹسٹ سارہ الجہنی نے مٹی کے گھروں کو کیسے نسوانی انداز سے پھر سے زندگی دی

العلا اور ریاض کے مٹیالے گھروں کی بحالی سے لے کر معاصر فن کی دنیا تک سارہ الجہنی نے روایتی ترمیم کو نسوانی اظہار میں ڈھال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب کی آرٹسٹ اور انجینیئر سارہ الجہنی مٹی کو نہ صرف فن کا وسیلہ سمجھتی ہیں بلکہ اسے انسان اور زمین کے درمیان رشتے کی علامت بھی قرار دیتی ہیں۔ العلا اور ریاض میں روایتی مٹیالی عمارات کی بحالی کے تجربے سے لے کر فنِ معاصر کے میدان تک سارہ نے مٹی کو ایک جذباتی اور فکری زبان میں بدل دیا ہے۔

ایک روایت سے آغاز

سارہ الجہنی کا کہنا ہے کہ اُن کی مٹی سے جُڑی وابستگی ایک روایت سے شروع ہوئی، جس میں بارش کے بعد مٹی کی خوشبو، پرانی دیواروں کا لمس اور گزرے وقتوں کی خاموشی گہرائی سے پیوست ہے۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ اُن کے ذہن میں ہمیشہ ایک سوال گونجتا رہاکہ "مٹی کے گھر کیوں چھوڑ دیے گئے؟" اسی سوال نے انہیں عملی میدان میں اتارا، جہاں انہوں نے العلا کی قدیم بستیوں اور ریاض کے مٹیالی محلّات کی بحالی میں حصہ لیا۔

جذبات کی دستاویز سازی

ریاض میں کام کے دوران وہ صرف ایک ماہر بحالی کار یا فنکار ہی نہیں تھیں بلکہ ایک حساس انسان کے طور پر مٹی کی سرگوشیاں سننے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بحالی کا عمل محض ایک تکنیکی مشق نہیں بلکہ انسان اور زمین، خاموشی اور دھڑکن، تاریخ اور یادداشت کے درمیان تعلق کو پھر سے جوڑنے کی ایک روحانی کوشش ہے۔

ان کے بہ قول جب مٹی سرگوشی کرتی ہے تو یہ محض ایک فنکارانہ اظہار نہیں ہوتا، بلکہ ان گھروں کی جذباتی باقیات کا خاموش پیغام ہوتا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ شکستہ عمارتیں دراصل زوال پذیر انسانی تعلقات کا عکس ہیں، جنہیں بحالی کے عمل سے پھر جوڑنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

انسانی رنگ

سارہ الجہنی کے فن میں عورت کی موجودگی بھی ایک خاموش مگر مضبوط ترمیمی قوت کے طور پر ابھرتی ہے، جو نہ صرف سُن سکتی ہے بلکہ اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ وہ مٹی کو محض ایک خامہ نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی زبان تصور کرتی ہیں، جو ماضی کو حال سے جوڑتی ہے اور انسان، زمین اور جذبات کے درمیان ایک پل قائم کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اُن کے لیے مٹی روایتی بحالی کا محض ذریعہ نہیں بلکہ ایک فکری اور حسی نظام ہے، جو اُنہیں معاصر فن میں نئی جہتیں دریافت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ انسٹیٹیوٹ مسک آف آرٹس کے "مساحہ" پروگرام میں ان کا فن عوام تک ایک جذباتی و فکری تجربے کے طور پر پہنچا، جسے بھرپور پذیرائی ملی۔

مٹی بطور جدید فنکارانہ وسیلہ

سارہ کا ماننا ہے کہ ماضی کی عمارات میں زوال صرف دیواروں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ وہ زوال جذباتی بندھنوں کا بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ مٹی کو انسانی تعلقات، جدائی، امید اور تعمیر نو کی علامت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

کاروبار کا درمیانی واسطہ

اپنے فن پاروں میں وہ تصویری فریموں کو چھت کے اندر استعمال کر کے عورت کی قیادت کی تجسیم کرتی ہیں، ایک ایسی قیادت جو بوجھ کو سنبھالتی ہے، پناہ دیتی ہے اور خاموشی سے تعلق کو جوڑتی ہے۔ اُن کے مطابق اگر باپ کو گھر کی چھت کہا جاتا ہے، تو عورت وہ بنیاد ہے جو اس چھت کو متوازن رکھتی ہے۔

چھت کے بیچ سے خواتین کی قیادت

سارہ الجہنی کے نزدیک تراث صرف ماضی کا حصہ نہیں بلکہ مستقبل کی بنیاد ہے۔ ان کے خیال میں جب کوئی عورت اس ورثے کو اپناتی ہے، تو وہ صرف روایت نہیں بلکہ اُس روح اور مٹی کی خوشبو بھی ساتھ لاتی ہے جس میں وہ پروان چڑھی ہوتی ہے۔

وہ اس وقت ایک کتاب بھی مرتب کر رہی ہیں جو مٹی کو معاصر اظہار کے ایک جیتے جاگتے وسیلے کے طور پر پیش کرے گی، اور روایتی فنون کو موجودہ دور کی پائیداری اور نسوانی قیادت کے ساتھ جوڑنے میں مدد دے گی۔ ان کی ورکشاپس فن اور روایت کے ملاپ کی نئی راہیں کھول رہی ہیں، جہاں سعودی دستکاری عالمی معاصر مکالمے سے ہم آہنگ ہو رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں