سعودی ولی عہد سے ایوارڈ لینے والے نورمان فوستر کون اور کتنی دولت کے مالک؟

معماری کی دنیا کا درخشاں نام، جس کی دولت 24 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

برطانوی ماہرِ تعمیرات نورمان فوستر کا نام سعودی عرب کے شہری منصوبوں میں روز افزوں پذیرائی حاصل کر رہا ہے، خصوصاً اس وقت جب ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے ان کے ڈیزائن کو سراہتے ہوئے کہا کہ "فوستر عظیم ہے" جو اس کی اس تخلیقی سوچ کا اعتراف ہے جو جدیدیت کو مقامی شناخت کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔

ابہا کا نیا ایئرپورٹ جس کے نقشے کا اجرا 2023ء میں ولی عہد نے کیا عسیر ریجن کے اہم ترین سیاحتی اور لاجسٹک منصوبوں میں شامل ہے۔ اس کا ڈیزائن مقامی ثقافت سے متاثر ہو کر ترتیب دیا گیا ہے، جو ماحول دوست بھی ہے اور پائیدار ترقی کی جدید ترین تکنیکوں پر مبنی ہے۔

منصوبہ ہر سال ایک کروڑ 30 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کرے گا، جس کے لیے 65 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر پھیلی جدید ٹرمینل عمارت بنائی جائے گی۔ اس میں کشادہ خودکار سفری سہولیات، بورڈنگ پل، وسیع پارکنگ اور عالمی و مقامی پروازوں سے ربط قائم رکھنے کی صلاحیت شامل ہو گی۔ منصوبے کا پہلا مرحلہ 2028ء تک مکمل کیا جائے گا۔

ابہا انٹرنیشنل ایئر پورٹ: سورس ویب سائٹ سعودی وژن 2030

فوستر اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط پیشہ ورانہ روابط قائم ہیں۔ ان کی کمپنی "فوسٹر + پارٹنرز" مملکت کے ویژن 2030 کے تحت 13 اہم منصوبوں میں شراکت دار رہی ہے، جن میں انفرا اسٹرکچر، ثقافتی علامات اور شہری سہولیات شامل ہیں۔

سعودی عرب میں ان کے نمایاں منصوبوں میں "الفیصلیہ ٹاور" (ریاض کا مشہور شیشے کا مینار)، "میٹرو جدہ" (مکمل شہری ٹرانسپورٹ پلان) اور "بحر احمر ایئرپورٹ" شامل ہیں،جس کا ڈیزائن قدرتی ماحول جیسے ریگستان، نخلستان اور سمندر سے متاثر ہے۔

فوستر "ایکسپو 2025ء اوساکا" میں سعودی پویلین کا بھی معمار ہے جو سعودی شہروں کی شناخت کو پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ "مرکز الفیصلیہ" ریاض میں ان کی ایک اور تخلیق ہے جو مملکت کی پہلی فلک بوس عمارت ہے۔ 267 میٹر بلند یہ عمارت ہوٹل، کانفرنس سینٹر اور رہائشی یونٹس پر مشتمل ہے۔

نورمان فوستر اُن چند معماروں میں شامل ہیں جنہوں نے دنیا کے تمام براعظموں پر اپنی انفرادیت کی چھاپ چھوڑی۔ سنہ 1999ء میں انہیں فنِ تعمیر کی دنیا کا سب سے اعلیٰ اعزاز "پریٹزکر ایوارڈ" دیا گیا، جو ان کی انقلابی سوچ اور تعمیراتی خدمات کا عالمی اعتراف ہے۔ ان کی دولت کا تخمینہ 240 ملین ڈالر لگایا گیا ہے، جو انہیں دنیا کے مہنگے ترین معماروں میں شمار کرتا ہے۔

"شہر انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ایجاد ہیں"

2023ء میں نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے فوستر نے کہا تھا "وہ عمارتیں جو طویل عرصے تک قائم رہتی ہیں، دراصل قوموں، جمہوریت اور طرزِ زندگی کی علامت بن جاتی ہیں"۔

انہوں نے مزید کہاکہ "شہر ہماری زندگی کے معیار کا تعین کرتے ہیں کسی ایک عمارت سے کہیں زیادہ اور حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی ہی واحد مستقل چیز ہے"۔

زندگی اور پیشہ ورانہ سفر

نورمان فوستر یکم جون 1935ء کو برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے "یونیورسٹی آف مانچسٹر" اور پھر امریکہ میں "ییل یونیورسٹی" سے فنِ تعمیر کی تعلیم حاصل کی۔

نورمان فوستر کا ڈیزائن کردہ تین منزلہ مشہور فیصل ٹاور
نورمان فوستر کا ڈیزائن کردہ تین منزلہ مشہور فیصل ٹاور

سنہ 1960ء کی دہائی میں انہوں نے رچرڈ راجرز اور وینڈی فوستر کے ساتھ مل کر "ٹیم 4" کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ بعد ازاں 1967ء میں انہوں نے "فوسٹر + پارٹنرز" کے نام سے اپنی الگ کمپنی بنائی جو وقت کے ساتھ دنیا کی بڑی تعمیراتی فرموں میں شمار ہونے لگی۔

ان کے ابتدائی کاموں میں "جدید ٹیکنالوجی شیڈ" کا تصور نمایاں رہا، جن میں سادہ داخلی ڈھانچے کے گرد ہلکا پھلکا بیرونی غلاف ہوتا تھا۔ ان کی معروف تخلیقات میں 1978ء میں "سینسبری سینٹر فار ویژوئل آرٹس" (ناروِچ) اور 1986ء میں "ہانگ کانگ اینڈ شنگھائی بینک کا صدر دفتر" شامل ہیں، جو اپنے وقت سے کئی قدم آگے کا ڈیزائن رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں