کینیڈا نے پیر کے روز کہا کہ اس نے غزہ کو ہوائی ذریعے سے انسانی امداد پہنچائی جبکہ اوٹاوا نے دوبارہ اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
کینیڈا کی حکومت نے ایک بیان میں کہا، "(کینیڈا کی مسلح افواج) نے غزہ کی پٹی میں گلوبل افیئرز کینیڈا کی حمایت میں ہوائی راستے سے اہم انسانی امداد کی ترسیل کے لیے سی سی-130جے ہرکولیس طیارہ استعمال کیا۔ یہ 21,600 پاؤنڈز کی امداد پر مشتمل تھا۔"
کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے اطلاع دی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ کینیڈا کی مسلح افواج کی اولین ہوائی امداد تھی جو انہی کے طیارے کے ذریعے بھیجی گئی۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ کے رہائشیوں کے لیے غذائی امداد کے 120 پیکج چھے ممالک بشمول کینیڈا کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ دیگر پانچ میں اردن، متحدہ عرب امارات، مصر، جرمنی اور بیلجیئم شامل تھے۔
کینیڈا نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
کینیڈا نے پیر کو یہ بھی کہا، اسرائیلی پابندیوں نے انسانی ہمدردی کے اداروں کے لیے چیلنجز پیدا کر دیئے ہیں۔
کینیڈا کی حکومت نے کہا، "امداد کی یہ رکاوٹ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔"
اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات کی تردید کرتا اور غزہ کے مصائب کے لیے حماس کو ذمہ دار قرار دیتا ہے۔
اسرائیل کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ حماس کے عسکریت پسند غزہ میں آنے والا کھانا چوری کر کے فروخت کر رہے تھے۔ تاہم رائٹرز نے گذشتہ ماہ کے آخر میں اطلاع دی تھی کہ امریکی حکومت کے اندرونی تجزیئے میں حماس کے امریکی انسانی امداد کی منظم چوری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔