دنیا کی پہلی مصنوعی زبان جو انسان کی طرح ذائقہ محسوس کرتی ہے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سائنس دانوں نے دنیا کی پہلی مصنوعی زبان ایجاد کر لی ہے جو مائع ماحول میں، بالکل انسانی زبان کے خلیوں کی طرح ذائقوں کو محسوس کرنے اور ان میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تحقیقی جرنل PNAS میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ ایجاد خود کار نظاموں کے لیے نئے امکانات فراہم کرتی ہے، جیسے خوراک کی حفاظت کی نگرانی، بیماریوں کی ابتدائی شناخت اور لیبارٹری میں مائع نمونوں کے تجزیہ کے لیے استعمال وغیرہ۔ یہ مصنوعی زبان عصبی حساب کتاب کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے، یعنی ایسا نظام جو انسانی دماغ کے سیکھنے کے عمل کی نقل کرتے ہیں۔

مصنوعی زبان انتہائی باریک گرافین آکسائیڈ کی تہوں پر مبنی ہے، جو ذائقے کے آئنوں کو فلٹر کرنے کا کام کرتی ہیں۔ روایتی فلٹرز کے برخلاف یہ تہیں آئنز کی حرکت کو سست کرتی ہیں، جس سے نظام ذائقے کو پہچان کر اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیتا ہے۔

تجربات میں یہ مصنوعی زبان چار بنیادی ذائقوں میٹھا، کھٹا، نمکین اور کڑوا کو 72.5 فی صد سے 87.5 فی صد درستی کے ساتھ پہچاننے میں کامیاب رہی۔ مرکب ذائقوں جیسے کافی اور کوکا کولا میں درستی 96 فی صد تک پہنچ گئی کیونکہ ان کی کیمیائی ساخت پیچیدہ لیکن نظام کے لیے قابلِ شناخت تھی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ مائع میں سینسر اور معلومات کی پروسیسنگ ایک ساتھ کی گئی ہیں۔ پہلے کے نظام میں ڈیٹا پروسیسنگ کے لیے الگ کمپیوٹر استعمال ہوتا تھا اور زیادہ تر الیکٹرانک اجزاء مائع میں خراب ہو جاتے تھے، جس کی وجہ سے سینسر اور پروسیسنگ الگ الگ کی جاتی تھیں۔

نیا نظام اس مسئلے کو گرافین آکسائیڈ کی تہوں کے ذریعے حل کرتا ہے جو مائع میں غرق رہ کر دونوں کام انجام دیتی ہیں۔ کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کیمیائی مرکبات مائع میں تحلیل ہو کر آئنز میں تبدیل ہوتے ہیں، پھر یہ آئنز مائیکرو چینلز سے گزرتے ہیں جو انسانی بال سے ہزاروں گنا باریک ہیں۔ یہ چینلز ہر ذائقے کے لیے منفرد پیٹرن پیدا کرتے ہیں۔ نظام وقت کے ساتھ یہ پیٹرنز سیکھ کر بالکل انسانی دماغ کی طرح ذائقوں کی پہچان میں بہتری لاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بیماریوں کی ابتدائی شناخت کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، جیسے بایو کیمیکل ذائقوں کے ذریعے بیماریوں کی تشخیص، دوائیوں کے اثرات کی جانچ اور ان مریضوں کی مدد جنہوں نے نیورولوجیکل مسائل یا فالج کے بعد ذائقہ کھو دیا ہو۔

اس ایجاد کو خوراک کی حفاظت، مشروبات کے معیار کے کنٹرول اور پانی کے معیار کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یونگ یان، چین کے نیشنل سینٹر فار نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے کیمسٹری پروفیسر اور تحقیقی مطالعے کے محققین میں سے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایجاد قدرت سے متاثر شدہ نئے آئنک آلات کے ڈیزائن کے لیے ایک ماڈل پیش کرتی ہے جو مائع ماحول میں کام کرتے ہوئے ایک ساتھ سینسر اور معلومات کی پروسیسنگ کر سکتے ہیں، بالکل انسانی اعصابی نظام کی طرح۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں