ڈمنشیا کا خطرہ کم کرنے کے لیے بہترین ورزشیں
ماہر اعصاب کے مطابق روز مرہ کی سادہ عادات کے ذریعے دماغ کی نگہداشت کی جا سکتی ہے
دماغی صحت اور یادداشت کو بہتر رکھنے کے لیے سادہ اور مؤثر عادات اپنانا بہت اہم ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتی عمر کے ساتھ سب سے زیادہ پریشانی پیدا کرنے والی بیماریوں میں "نِسیان" (ڈمنشیا) شامل ہے۔ یہ مرض انسان کی یادداشت، زبان، منطق اور رویے پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ اندازوں کے مطابق 65 برس سے زائد عمر کے 5 تا 8 فی صد افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ 85 برس سے اوپر کی نصف آبادی کسی نہ کسی شکل میں نسیان (بھولنے کی بیماری) کا سامنا کرتی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے NBC کے پروگرام "ٹو ڈے" میں نیویارک یونیورسٹی کی ماہرِ اعصاب پروفیسر وینڈی سوزوکی نے اپنی روزمرہ کی عادات اور تحقیقات کی بنیاد پر مشورے دیے۔ ان کے مطابق کارڈیو ورزشیں دماغی صحت کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہیں اور یہ خطرہ کم کرتی ہیں کہ بڑھتی عمر میں انسان نسیان کا شکار ہو۔ یہ ورزشیں دل کی دھڑکن تیز کر کے دماغ میں ایسے کیمیائی عوامل پیدا کرتی ہیں جو یادداشت اور فیصلہ سازی کو مضبوط بناتے ہیں۔
پروفیسر سوزوکی کا کہنا تھا کہ اگرچہ طاقت بڑھانے والی ورزشیں بھی عمر دراز کرنے میں مدد گار ہیں، لیکن کارڈیو ورزشیں دماغ کے ہپوکیمپس حصے کو زیادہ بہتر بناتی ہیں، جو یادداشت سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جسمانی حرکت کے ساتھ دماغ میں ایک طرح کا "کیمیائی بلبلہ غسل" پیدا ہوتا ہے جو اعصاب کو تقویت دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق 2060 تک نسیان میں مبتلا افراد کی تعداد دو گنا ہو سکتی ہے، لیکن طرزِ زندگی کی تبدیلیاں اس خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ باقاعدگی سے ورزش، دماغی مشقیں اور صحت مند غذا نہ صرف نسیان کے امکانات گھٹاتی ہیں بلکہ دماغی عمر کو دو سال تک کم بھی کر سکتی ہیں۔
آغاز کیسے کریں ؟
پروفیسر سوزوکی نے کہا کہ اگر کوئی شخص (Aerobics) میں نیا ہے اور اسے مشکل سمجھتا ہے، تو اسے یہ جاننا چاہیے کہ وہ اپنی موجودہ سرگرمیوں میں تھوڑی سی توانائی شامل کر کے بھی فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر گروسری اسٹور میں تیز چلنا، معمول سے کچھ زیادہ وقت باغ بانی کرنا یا فارغ وقت میں رقص کرنا بھی مدد گار ہو سکتا ہے۔
پروفیسر سوزوکی نے مزید بتایا کہ وہ ذاتی طور پر اپنی روزمرہ زندگی میں دماغ کی صحت برقرار رکھنے کے لیے کچھ عادات کی پابندی کرتی ہیں، جو درجِ ذیل ہیں :
کافی نیند لینا: ہر رات آٹھ گھنٹے سونا اور روزانہ ایک ہی وقت پر جاگنا۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ رات میں صرف پانچ یا چھ گھنٹے سوتے ہیں، ان میں نسیان کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں 30 سے 50 فی صد زیادہ ہوتا ہے جو سات یا آٹھ گھنٹے سوتے ہیں۔
مراقبہ : مراقبہ بلڈ پریشر اور ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے، جو دونوں ہی نسیان کے خطرے کے عوامل ہیں۔
صحت مند خوراک : ایسی غذا کو ترجیح دینا جو صحت مند چکنائیوں، مکمل اناج اور سبزیوں سے بھرپور ہو اور پروسیسڈ کھانوں میں کم ہو، دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
سماجی تعلقات برقرار رکھنا : قریبی رشتے داروں اور دوستوں کے ساتھ باقاعدہ میل جول دماغ کو متحرک رکھتا ہے۔ پروفیسر سوزوکی کے مطابق دوستیاں "دماغی صحت کے فارمولے کا ایک اہم حصہ" ہیں۔