وائٹ ہاؤس کے 'فیم واک' میں بائیڈن کے پوٹریٹ کی جگہ خودکار دستخطی مشین کی تصویر آویزاں

نیویارک پوسٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی مغربی دیوار کی راہداری میں امریکہ کے 45 سابق صدور کی تصاویر پر مشتمل پوٹریٹ آویزاں کیے گئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'صدارتی فیم واک' کے نام سے وائٹ ہاؤس ایک نیا سجاوٹی منصوبہ متعارف کروایا ہے جس کے تحت قصر سفید کی مغربی راہداری کی دیواروں پر امریکہ کے تمام سابقہ صدور کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔

اس آرائش کا نمایاں منفرد پہلو سابق صدر جو بائیڈن کی تصویر کی جگہ ایک خودکار دستخطی مشین (Autopen) کا پوٹریٹ ہے جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر کی مدتِ صدارت کے دوران اس ٹیکنالوجی پر اپنے پیش رو کے انحصار کو طنزیہ طور پر نمایاں کرنے کی خاطر خود تبدیل کرایا ہے۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق، اس راہداری میں امریکہ کے 45 صدور کی تصاویر شامل ہیں، جبکہ صدر بائیڈن کی تصویر کو نظر انداز کرنا ٹرمپ کی جانب سے ایک علامتی چوٹ سمجھا گیا۔ ٹرمپ اکثر اپنے حریف کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کہ وہ بعض فیصلوں اور سرکاری خطوط پر دستخط کے لیے خودکار مشین استعمال کرتے ہیں۔

اخبار کے مطابق، خودکار مشین سے دستخط اگر باضابطہ اجازت کے ساتھ کیے جائیں تو وہ قانونی تصور ہوتے ہیں، لیکن بائیڈن کے مخالفین اسے اہم اور حساس معاملات میں ان کی ذاتی عدم موجودگی کی علامت سمجھتے ہیں۔

حالیہ منصوبہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایما پر وائٹ ہاوس بشمول اوول آفس میں کی جانے نئی تبدیلیوں کا حصہ ہے جس کے تحت قصر سفید کے باغیچوں اور رہائشی سویٹس کو نئی سجاوٹ سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔

اس اقدام پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ وائٹ ہاوس میں کرائی جانے والی تبدیلیوں کے حامی اسے ٹرمپ کے دور اقتدار میں ان کی ذاتی پسند کا عکاس قرار دے رہے ہیں جبکہ مخالفین اسے وائٹ ہاوس کے تاریخی شناخت کو بالائے طاق رکھ کر کی جانے والی ظاہری نمود ونمائش قرار دے رہے ہیں۔

ایوان صدر کی سابق فوٹوگرافر پیٹ سوزا (Pete Souza) نے کہا کہ منصوبہ وائٹ ہاوس کی علامتی حیثیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس "امریکی عوام کی ملکیت ہے، نہ کہ تنگ نظری سے عبارت سیاسی پیغامات دینے کی جگہ۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں