لونگ روزانہ کا استعمال دل کی صحت اور کولیسٹرول کو متوازن رکھنے میں معاون
لونگ جو سیزیجیوم کے پھول کے کونپلیں کہلاتی ہیں، اپنی خوشبودار مہک بھرپور ذائقے اور کئی صحت بخش فوائد کے لیے جانا جاتا ہے۔
تحقیقات سے ثابت ہوا کہ کھانے میں استعمال کے علاوہ یہ دل کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ لونگ اینٹی آکسیڈنٹس اور فعال حیاتیاتی مرکبات جیسے ایوجینول سے بھرپور ہوتا ہے، جو خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم کرنے اور اچھے کولیسٹرول (HDL) کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
روزانہ ایک لونگ کھانے سے خون میں چربی کی صحت مند سطح برقرار رہتی ہے، سوزش کم ہوتی ہے اور آکسیڈیٹیو دباؤ سے تحفظ ملتا ہے۔ یہ تمام عوامل دل اور خون کی نالیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور دل کی مجموعی صحت کو فروغ دینے میں مددگار ہیں۔
"ٹائمز آف انڈیا" کا دعوی ہے کہ لونگ کے لگاتار استعمال سے خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور فطری طور پر خون کے دباؤ کی صحت مند سطح قائم رہتی ہے۔
دل کے لیے صحت کے فوائد
Journal of Clinical and Diagnostic Research میں شائع ہونے والی ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی کہ ہائی لپڈیمیا کے شکار شرکاء جنہوں نے لونگ کے سپلیمنٹس استعمال کیے، ان میں کل کولیسٹرول اور خراب کولیسٹرول (LDL) کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ اس بہتری میں لونگ کی سوزش مخالف اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کو اہم کردار قرار دیا گیا۔
Journal of Food Science and Technology میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ لونگ اور ادرک کا مرکب حیوانی ماڈلز میں کل کولیسٹرول اور خراب کولیسٹرول کو کم کرتا ہے۔ یہ نتائج بتاتے ہیں کہ لونگ دل کی صحت کو سپورٹ کر سکتا ہے کیونکہ یہ خون میں چربی کی صحت مند سطح کو برقرار رکھتا اور سوزش کو کم کرتا ہے۔
اس کے علاوہ لونگ خون کی نالیوں میں رکاوٹ بننے سے روکنے میں ممکنہ کردار ادا کر سکتی ہے۔ لونگ میں موجود ایوجینول جو اس کا بنیادی فعال مرکب ہے، LDL کولیسٹرول کی آکسیڈیشن کو روک سکتا ہے۔ آکسیڈائزڈ خراب کولیسٹرول شریانوں میں پلاک بننے کا اہم سبب بنتا ہے، جو دل اور خون کی نالیوں کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ لہذا لونگ کو غذائی نظام میں شامل کرنا آرتھروسکلروسیس سے بچاؤ فراہم کرتا ہے۔
لونگ کے دیگر صحت بخش فوائد
دل کی صحت کے علاوہ لونگ کے کئی اضافی فوائد بھی ہیں۔
لونگ میں سوزش مخالف خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ جسمانی سوزش کو کم کرنے میں مددگار ہے، جو کہ مزمن بیماریوں جیسے گٹھیا اور میٹابولک ڈس آرڈرز سے جڑی ہوتی ہے۔ روزانہ غذائی نظام میں لونگ کو شامل کرنے سے جوڑوں کی سختی میں کمی اور سوزش کی علامات میں بتدریج کمی ممکن ہے۔
کچھ سَڈیز سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ لونگ خون میں شوگر کی سطح کو منظم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے، جس سے یہ شوگر کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔ لونگ کو کھانے یا چائے میں شامل کرنے سے گلوکوز کی سطح پر قابو بہتر ہوتا ہے اور انسولین کی حساسیت میں بہتری آتی ہے۔
اس کے علاوہ لونگ کو روایتی طور پر ہاضمہ کی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، جیسے پیٹ پھولنا اور بدہضمی۔ یہ ہاضمے کے انزائمز کو متحرک کر سکتا ہے، جس سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور غذائی اجزاء کو جسم کا حصہ بننے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔
لونگ میں موجود ایوجینول میں قدرتی درد کش اور جراثیم کش خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو اسے دانت کے درد اور مسوڑھوں کے مسائل سے بچاؤ کے لیے مفید بناتی ہیں۔ لونگ کے تیل کا استعمال یا لونگ چبانا منہ میں موجود بیکٹیریا کو کم کرنے اور قدرتی تازگی بھری خوشبو فراہم کرنے میں مددگار ہے۔
لونگ میں اینٹی آکسیڈنٹس کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے، جو خلیات کو آکسیڈیٹیو دباؤ سے محفوظ رکھتی ہے اور مدافعتی نظام کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس خلیات کی بڑھاپے کی رفتار کو سست کرتی ہیں اور دل اور جگر کی صحت میں بہتری میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
غذائی نظام میں
روزانہ کے معمول میں لونگ شامل کرنا آسان اور کئی طریقوں سے ممکن ہے۔ اسے گرم مشروب کے طور پر کھانے میں یا تیل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لونگ کی چائے: ایک پورا لونگ گرم پانی میں 5-10 منٹ بھگوئیں۔ یہ ہلکی چائے روزانہ دل اور خون کی نالیوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے پی جا سکتی ہے۔
کھانے میں استعمال: لونگ کو سوپ، بیکڈ اشیاء یا جوس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ہر حصے میں صرف ایک لونگ کافی ہے تاکہ مطلوبہ فوائد حاصل ہوں۔
لونگ کا تیل: چند قطرے کھانے میں یا قدرتی خوشبو کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم لونگ کا تیل انتہائی مرتکز ہوتا ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
بیرونی استعمال: مختلف بیجوں سے نکالے گئے آئل کو لونگ کے تیل کے ساتھ ملا کر جلد پر استعمال کرنے سے پٹھوں کے درد یا ہلکی جلن کو کم کیا جا سکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر اور اہم نکات
اگرچہ لونگ عام طور پر معتدل مقدار میں محفوظ ہے مگر زیادہ استعمال خاص طور پر لونگ کا تیل، جگر کے زہر، ہاضمے کی جلن اور دیگر مضر اثرات پیدا کر سکتا ہے۔
حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور وہ لوگ جو کسی طبی مسئلے کا شکار ہیں، انہیں لونگ کا استعمال بڑھانے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔