ادھیڑ عمری میں تیس دنوں میں پیٹ کم کرنے کی پانچ بہترین ورزشیں
اس میں کوئی شک نہیں کہ جسم میں چربی جمع ہونے کا طریقہ ایک خاص عمر کے بعد بدل جاتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہارمونل تبدیلیاں، میٹابولزم (یعنی جسم میں غذائی عمل) کی سست رفتاری اور چالیس سال کے بعد پٹھوں کی قدرتی کمی یہ سب مل کر پیٹ کی چربی کو زیادہ عام اور ختم کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔
جریدہ Nutrition Metabolism and Cardiovascular Diseases میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے، کہ پیٹ کی چربی، خاص طور پر اندرونی (ویسرل) چربی، دل کی بیماری، ذیابیطس اور دیگر طویل المدتی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔
صحت اور بہتر زندگی کا معیار
ویب سائٹ Not That Eat This کے مطابق پیٹ کی غیر ضروری چربی سے نجات کا تعلق صرف ظاہری خوبصورتی سے نہیں بلکہ طویل مدت تک صحت، حرکت کی صلاحیت اور زندگی کے معیار کو بہتر بنانے سے ہے۔
فٹنس ٹرینر اور کمپنی AlterMe کی فٹنس ڈائریکٹر میگن کونگ کے مطابق پیٹ کی چربی کے لیے کوئی جادوئی یا فوری حل موجود نہیں، لیکن اگر آپ کلاسک ورزشوں کو مستقل عادات کے ساتھ جوڑ لیں تو یہ نہ صرف کمر کے حصے کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ توانائی میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔ یہ آسان، آزمودہ اور مؤثر ورزشیں ہیں، بشرطِیکہ یہ استقامت کے ساتھ کی جائیں۔
ذیل میں وہ پانچ سب سے مؤثر ورزشیں دی جا رہی ہیں جو جسم کے مرکزی عضلات (Core Muscles) کو مضبوط کرنے، سپورٹ دینے والی عضلات کو فعال کرنےاور پیٹ کی چربی سے نجات دلانے میں مدد کرتی ہیں۔
تیز قدموں سے چلنا
تیز قدموں سے چلنا وزن کم کرنے کی ان مشقوں میں سے ایک ہے جنہیں اکثر لوگ کم اہم سمجھتے ہیں۔ جریدہ rition Obesity and Exercise میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق کے مطابق اگر درمیانی شدت کی ایروبک ورزشیں جیسے تیز چلنا با قاعدگی سے کی جائیں، تو وہ جسم کے اندرونی اعضاء کے گرد جمع چربی (ویسرل فیٹ) کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہیں۔ یہ اس لیے مؤثر ہے کیونکہ چلنے سے کیلوریز جلتی ہیں، تناؤ کم ہوتا ہے(جو چربی کے ذخیرے پر اثر ڈالتا ہے) اور یہ ایک ہلکی ورزش ہے، جو جوڑوں پر دباؤ نہیں ڈالتی۔
ماہرین کے مطابق بہترین نتائج کے لیے ہفتے میں کم از کم پانچ دن روزانہ 20 سے 30 منٹ تک تیز قدموں سے چلنا مفید ہے۔ چلنے کی رفتار اتنی ہونی چاہیے کہ بات چیت کرنا تھوڑا مشکل ہو، مگر ناممکن نہ ہو۔ جیسے جیسے فٹنس بہتر ہو، آپ دورانیہ یا فاصلہ بتدریج بڑھا سکتے ہیں۔
نو آموز افراد (Beginners) کے لیے مشورہ ہے کہ ابتدا میں صرف 10 منٹ تک چلیں، پھر ہر چند دن بعد پانچ منٹ کا اضافہ کریں۔ ساتھ ہی بہت آہستہ چلنے، جھک کر چلنے یا ورزش سے پہلے وارم اپ اور بعد میں کول ڈاؤن کی مشقوں کو نظر انداز کرنے سے گریز کریں۔
کھڑے ہو کر سائیڈ ایبز کی ورزش
سائیڈ ایبز (پیٹ کے اطراف کی) ورزشیں پیٹ کے ترچھی عضلات (Oblique Muscles) کو مضبوط بناتی ہیں، جس سے جسم کا توازن اور سیدھی حالت (Posture) بہتر ہوتا ہے۔مزید یہ کہ جسم کے مرکزی حصے (Core) کو مضبوط کرنے سےچوٹ لگنے کا خطرہ کم اور حرکت کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔
یہ ورزش اس طرح کی جاتی ہے،سیدھے کھڑے ہوں، پاؤں کو کولہوں کے برابر کھولیں، ہاتھوں کو سر کے پیچھے رکھیں اور کہنیاں پھیلائیں۔ پھر دائیں پسلی کو دائیں ران کی طرف جھکائیں، پھر واپس سیدھے کھڑے ہو جائیں اور یہی عمل دوسری جانب دہرائیں۔ یہ مشق ہر طرف 12 سے 15 بار 3 سیٹ میں کی جاتی ہے۔
ابتدائی افراد (Beginners) کے لیے مشورہ ہے کہ گردن پر دباؤ کم کرنے کے لیے ہاتھوں کو سر کے پیچھے رکھنے کے بجائے رانوں پر رکھیں۔ ساتھ ہی ورزش کے دوران جسم کو جھٹکے سے حرکت دینے یا آگے جھکنے سے گریز کریں۔
باڈی ویٹ سکواٹس
باڈی ویٹ سکواٹس یعنی اپنے جسم کے وزن کے ساتھ بیٹھنے اور اٹھنے کی مشق بنیادی طاقت (Core Strength) بڑھانے والی سب سے اہم ورزشوں میں سے ایک ہے۔یہ ورزش بڑے عضلاتی گروپس جیسے کولہے (Glutes)، رانوں کے اگلے حصے (Quadriceps)اور ہیم سٹرنگز (Hamstrings) کو متحرک کرتی ہے، جس سے کیلوریز جلتی ہیں، میٹابولزم بہتر ہوتا ہے اور پیٹ کی چربی کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اسے کرنے کا طریقہ یہ ہے: سیدھے کھڑے ہوں، پاؤں کو کندھوں کے برابر کھولیں، پھر گھٹنوں کو موڑتے ہوئے پیچھے کی طرف بیٹھیں، یہاں تک کہ رانیں زمین کے متوازی ہو جائیں۔چھاتی کو سیدھا رکھیں اور گھٹنوں کو پاؤں کی انگلیوں کے ساتھ سیدھ میں رکھیں۔ پھر ایڑیوں کے بل دباؤ ڈال کر دوبارہ کھڑے ہو جائیں۔ یہ مشق 3 سیٹ میں 12 بار کی جاتی ہے۔
نئے ورزش کرنے والوں (Beginners) کے لیے مشورہ ہے کہ ابتدا میں کرسی کا سہارا لے کر بیٹھنے اور اٹھنے کی مشق کریں۔ساتھ ہی گھٹنوں کو اندر کی طرف موڑنے یا کمر کو جھکانے سے گریز کریں۔
فرش پر کی جانے والی ورزشیں
پلانک (Plank) ورزش کو مرکزی عضلات (Core Muscles) کو مضبوط بنانے کے لیے سب سے موثر ورزشوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔جب اس میں کندھوں پر ہلکی تھپک (Shoulder Taps) شامل کی جاتی ہے، تو یہ ورزش مزید مؤثر بن جاتی ہے کیونکہ اس میںپیٹ کے اطراف کے عضلات (Obliques) اور کمر کے نچلے حصے کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔
اس ورزش کو کرنے کا طریقہ یہ ہے:ہاتھوں کو کندھوں کے نیچے رکھ کر اور جسم کو سیدھا رکھتے ہوئے ہائی پلانک پوزیشن میں آئیں۔پھر دائیں ہاتھ سے بائیں کندھے کو چھوئیں،کمر اور کولہوں کو سیدھا اور متوازن رکھیں۔پھر واپس پہلی پوزیشن پر آئیں اور دوسری جانب یہی عمل دہرائیں۔ یہ ورزش ہر طرف 8 سے 10 بار 3 سیٹ میں کی جاتی ہے۔
ابتدائی افراد (Beginners) کے لیے مشورہ ہے کہ پلانک کرتے وقت گھٹنوں کو زمین پر رکھیں تاکہ دباؤ کم ہو۔ساتھ ہی کولہوں کو ہلانے یا بہت تیزی سے حرکت کرنے سے گریز کریں۔
ماؤنٹین کلائمر ورزش
ماؤنٹین کلائمر (پہاڑ چڑھنے جیسی) ورزش ایک جامع یا مرکب ورزش ہے جو ایروبک حرکت (سانس اور دل کی کارکردگی بڑھانے والی مشق) اور جسم کے مرکزی عضلات (Core Muscles) کو مضبوط کرنے کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔ سال 2025 میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق زیادہ شدت والی باڈی ویٹ ورزشیں چربی کے جلنے کے عمل (Fat Oxidation)اور میٹابولک صحت کو بہتر بناتی ہیں۔
اسے کرنے کا طریقہ یہ ہے: ہائی پلانک پوزیشن میں آئیں، پھر دائیں گھٹنے کو سینے کی طرف لائیں اور تیزی سے دوسری ٹانگ سے یہی حرکت کریں، یوں لگے گا جیسے آپ ایک ہی جگہ کھڑے دوڑ رہے ہوں۔ اس عمل کو مستقل رفتار سے جاری رکھیں اور یہ ورزش 3 راؤنڈز میں کریں، ہر راؤنڈ 15 سے 20 سیکنڈ تک ہو۔
ابتدائی افراد (Beginners) کے لیے مشورہ ہے کہ رفتار کم رکھیں یا ہاتھوں کو کسی بینچ یا اونچی جگہ پر رکھیںتاکہ کمر کے نچلے حصے پر دباؤ کم ہو۔ساتھ ہی ورزش کے دوران کولہوں کو ڈھیلا چھوڑنے یاجسم کی سیدھی لائن (Alignment) کو بگاڑنے سے گریز کریں۔
-
ٹماٹر کے پیسٹ پر لگی پھپھوندی ہٹا کر استعمال کرنا خطرناک اقدام
ہم میں سے اکثر نے کبھی نہ کبھی ایسی محفوظ شدہ خوراک (جیسے بوتل یا مرتبان میں رکھی ...
بين الاقوامى -
روزانہ موسیقی سننا آپ کے ذہن کو جوان اور یادداشت کو مضبوط کرتا ہے!
ایک نئی تحقیق شاید آپ کو موسیقی سننے یا بجانے کی دعوت دے، کیونکہ اس کے نتائج ظاہر ...
ایڈیٹر کی پسند -
سائنس اور انسانیت کی ترقی کے لیے تجرباتی چوہا بننے والوں کی کہانیاں
تاریخ میں بہت سے لوگوں نے سائنس اور انسانیت کی ترقی کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ...
ایڈیٹر کی پسند