ایک عام غذائی سپلیمنٹ کا دل کی ناکامی سے تشویش ناک تعلق ظاہر
نیند میں مدد دینے والی ایک مقبول دوا کے بارے میں نئی تحقیق نے علم کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے
ایسے بالغ افراد جو بے خوابی کا شکار تھے، ان پر کی گئی ایک تجزیاتی تحقیق سے ظاہر ہوا کہ جن افراد کو ایک سال سے زیادہ مدت تک میلاٹونن تجویز کیا گیا، وہ دل کی بیماریوں کے خطرے سے زیادہ دوچار ہوتے ہیں۔
اموات اور دل کی ناکامی
سائنس الرٹ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس ماہ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سائنسی سیشنز میں تحقیق کے نتائج پیش کیے گئے، جن سے معلوم ہوا کہ متعدد ممالک کے 130000 سے زیادہ بالغ افراد میں وہ لوگ جنہیں طویل عرصے تک میلاٹونن تجویز کیا گیا تھا، ان میں پانچ برس کے دوران دل کی ناکامی میں مبتلا ہونے کا خطرہ 89 فیصد زیادہ تھا۔
اسی طرح وہ کسی بھی وجہ سے موت کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات رکھتے تھے، ان افراد کے مقابلے میں جنہیں میلاٹونن نہیں دیا گیا تھا۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن افراد نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک میلاٹونن استعمال کیا، انہیں دل کی ناکامی کے باعث اسپتال میں داخل ہونے کا خطرہ اُن لوگوں کے مقابلے میں تقریباً 3اعشاریہ5 گنا زیادہ تھا جنہوں نے اسے استعمال نہیں کیا۔ اسی طرح کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ دونوں گروہوں میں 4اعشاریہ3 فیصد سے بڑھ کر 7اعشاریہ8 فیصد تک جا پہنچا۔
تحقیق نے توجہ دلائی کہ یہ ابتدائی نتائج ہیں اور موجودہ صحت کے رہنما اصولوں میں کوئی تبدیلی نہیں کرتیں اور نہ ہی اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ میلاٹونن جو امریکا میں بالغ افراد میں چوتھا سب سے عام قدرتی پروڈکٹ ہے وہ شدید منفی نتائج کا باعث بنتا ہے۔
تحقیق نے مزید بتایا کہ میلاٹونن کے طویل مدتی استعمال کو اس کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اسے مختصر مدت یعنی ایک سے دو ماہ تک غیر حاملہ اور غیر دودھ پلانے والی خواتین کے لیے عام طور پر محفوظ اور قابلِ برداشت سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اس غذائی سپلیمنٹ کے اثرات پر تحقیق اب بھی محدود ہے اور محققین میں سے کچھ کا خیال ہے اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر اس مسئلے پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔
نیویارک اسٹیٹ یونیورسٹی کے پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر سے تعلق رکھنے والے طبی محقق ایکینی ڈیلیکاکو نڈی نے کہا کہ ممکن ہے میلاٹونن سپلیمنٹس اتنے محفوظ نہ ہوں جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر نتائج کی تصدیق ہو گئی تو اس سے اس بات پر اثر پڑ سکتا ہے کہ ڈاکٹر اپنے مریضوں کو نیند میں مدد دینے والی ادویات کے حوالے سے کیسے مشورہ دیتے ہیں۔
بغیر نسخے کے
میلاٹونن سپلیمنٹ دراصل ایک ایسے ہارمون کی نقل ہے ،جو دماغ فطری طور پر پیدا کرتا ہے تاکہ جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو قائم رکھنے میں مدد دی جا سکے۔ دن کے اختتام پر اس متبادل کو لینے سے بعض افراد کو بہتر نیند میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
امریکا اور کئی دیگر ممالک میں میلاٹونن سپلیمنٹس بغیر نسخے کے دستیاب ہیں، جس کا مطلب ہے کہ مریض انہیں اپنی مرضی سے لے سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ کوئی ڈاکٹر ان کی خوراک یا استعمال کی مدت کی نگرانی کرے۔