ایک سادہ سی ورزش جو لمبی عمر اور بہتر دماغی صحت کی ضمانت دیتی ہے

"چلنا چلنا یادداشت کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی کمزوری کے ظاہر ہونے کی رفتار کو کم کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ڈاکٹر آسٹن پیرلماتر جو ایک معروف نیورولوجسٹ اور دماغی صحت کے ماہر ہیں،انھوں نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ ایک سادہ سا ورزش کا عمل درحقیقت نئی دماغی خلیات بنا سکتا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے کے مطابق ڈاکٹر پیرلماتر کا کہنا ہے کہ اگرچہ ورزش کرنا دماغی خلیات بنانے کے مؤثر ترین طریقوں میں سے ایک ہے، لیکن چلنا (واک) بہترین انتخاب ہے۔

ڈاکٹر پیرلماتر کے مطابق چلنا نہ صرف نئے اعصابی خلیات بننے میں مدد دیتا ہے بلکہ یہ یادداشت کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی تنزلی کے ظاہر ہونے کی رفتار کو بھی کم کرتا ہے۔

انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں ڈاکٹر پیرلماتر نے وہ ڈیٹا پیش کیا جس سے پتا چلتا ہے کہ چلنے اور دیگر جسمانی حرکات کس طرح دماغ کو نئی سمت میں ازسرِنو تشکیل دے سکتی ہیں، جیسا کہ درج ذیل ہے:

انسانی دماغ
انسانی دماغ

دماغ کو بیدار کرنا:

ڈاکٹر پیرلماتر اس تحقیق کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ظاہر کرتی ہے کہ چلنا نئی دماغی خلیات کی افزائش کو تحریک دے سکتا ہے، جسے سائنس دان ''نیوروجینیسس'' یعنی نئے اعصابی خلیات کی تشکیل کہتے ہیں۔ دماغ کے وہ اہم حصے جو یادداشت سے جڑے ہیں،خاص طور پر ہِپوکیمپس جوباقاعدہ جسمانی سرگرمی سے زیادہ مضبوط ہوتے اور بڑھتے ہیں۔

ایک تاریخی تجربے میں جہاں بالغ افراد نے ایک سال تک روزانہ چہل قدمی کی، اُن کے ہِپوکیمپس کا حجم تقریباً بڑھ گیا، جبکہ صرف اسٹرچنگ کرنے والے افراد میں معمولی سکڑاؤ دیکھا گیا۔

ہِپوکیمپس کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ یہ نئی یادداشتیں بنانے اور انہیں ضرورت کے وقت یاد رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ چلنا اس حصے کو مضبوط بناتا ہے، اسے بڑھتی عمر اور الزائمز جیسی بیماریوں کے اثرات کے مقابلے میں زیادہ مزاحم بناتا ہے۔

جسم کو حرکت دینا:

ڈاکٹر پیرلماتر کے مطابق جب جسم حرکت کرتا ہے تو وہ دماغ کو سگنلز بھیجتا ہے، جو اسے چوکنا اور متوجہ رہنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ یہ سگنلز دماغ کو بتاتے ہیں کہ انسان اپنے ماحول کے ساتھ فعال تعلق رکھتا ہے، جس سے اعصابی خلیات زیادہ صحت مند اور آپس میں مضبوط جُڑے رہتے ہیں۔ جسمانی سرگرمی دماغ تک خون کی روانی اور آکسیجن کی فراہمی بھی بڑھاتی ہے، جس سے دماغی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ مسلسل حرکت کرنے سے پٹھوں سے ''میوکنز'' نامی سگنلنگ مالیکیولز خارج ہوتے ہیں، جن میں مشہور BDNF بھی شامل ہے۔ BDNF دماغی خلیات کے لیے کھاد کی طرح کام کرتا ہے، نئے خلیات بنانے میں مدد دیتا ہے اور موجود اعصابی خلیات کو زیادہ مضبوط اور فعال رکھتا ہے۔

دل کو فعال کرنا:

چلنا دل کو متحرک کرنے اور خون کی گردش بہتر بنانے کے بہترین طریقوں میں سے ایک ہے اور اس کے لیے کسی خاص سامان یا جم کی ممبرشپ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر پیرلماتر کے مطابق جسمانی حرکت کی چھوٹی سی مقدار—جیسے باقاعدہ چہل قدمی—دماغ کے ہر اُس نظام کو طاقت دیتی ہے جو اسے سہارا دیتا ہے، چاہے وہ امیون سسٹم ہو، میٹابولزم یا دماغ کی لچک (نیورو پلاسٹیسٹی) یعنی دماغ کی دوبارہ خود کو ترتیب دینے کی صلاحیت ۔ ہفتے میں چند بار چلنا بھی یادداشت، سوچنے سمجھنے اور جذبات کو منظم کرنے والی دماغی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔

ذہنی تنزلی کے خطرے میں کمی:

ڈاکٹر پیرلماتر کے پیش کردہ تحقیق کے مطابق چہل قدمی نئے دماغی خلیات کی افزائش میں مدد دیتی ہے اور ذہنی کمزوری کی رفتار کو سست کرتی ہے۔ دماغ کا بڑا حجم اور BDNF کی بلند سطحیں الزائمز اور دیگر اقسام کے ڈیمینشیا کے خطرے کو کم کرنے سے جڑی ہیں۔
کئی مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے چلنے کی عادت رکھتے ہیں، وہ عمر کے ساتھ اپنی یادداشت، توجہ اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیت کو بہتر طور پر برقرار رکھتے ہیں۔

دیرپا معیارِ زندگی اور بغیر دوا کا مؤثر طریقہ :

یہ تمام فوائد لوگوں کو زیادہ عرصے تک خود مختار، سرگرم اور اچھی زندگی گزارنے میں مدد دیتے ہیں۔ باقاعدہ واک جسم میں سوزش کم کرتی ہے اور اُن نقصان دہ عوامل کا مقابلہ کرتی ہے جو ٹشوز کو تباہ کرسکتے ہیں۔ اسی لیے چلنا دماغ کی حفاظت کے لیے ایک بنیادی، غیر دوائی (Non-pharmacological) حکمتِ عملی تصور کیا جاتا ہے۔

چلنے کے طریقے کے لیے تجاویز:

ڈاکٹر پیرلماتر باقاعدہ ایک مقررہ معمول اپنانے کی سفارش کرتے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ زیادہ تر ہفتے کے دنوں میں کم از کم روزانہ تیس منٹ تک چلنے کی مشق کی جائے۔ اُن کے مطابق ضروری نہیں کہ شخص ماہر کھیل یا ورزش کا شوقین ہو، بس اتنی حرکت کافی ہے کہ دل کی دھڑکن بڑھ جائے اور سانس تھوڑا گہرا ہو جائے۔ (عام اصول یہ ہے کہ انسان بات تو کر سکے، لیکن گانا نہ گا سکے)۔

اگر شروع میں تیس منٹ چلنا مشکل لگے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ہر سیشن 15 منٹ کا ہو۔ مزید یہ کہ پارک یا باغ میں باہر چلنے سے اضافی فوائد حاصل ہوتے ہیں، جیسے سورج کی روشنی سے وٹامن D حاصل کرنا اور دماغ کو آرام دہ وقفہ دینا ضروری ہے ۔

ڈاکٹر پیرلماتر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے راستے منتخب کیے جائیں جو محفوظ ہوں تاکہ چلنے کا لطف واقعی اٹھایا جا سکے اور مناسب جوتے پہننا نہ بھولیں، کیونکہ غیر مناسب جوتے درد یا بدترین صورت میں چوٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔

آخر میں ڈاکٹر پیرلماتر نصیحت کرتے ہیں کہ کلید مستقل مزاجی میں ہے، کیونکہ اسی طرح دماغ روزانہ ترقی کے سگنلز کو جذب کرتا رہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں