خون میں شکر کی سطح بہتر کرنے کے لیے 5 بہترین سوپ کی اقسام
جب درجہ حرارت کم ہوتا ہے تو بہت سے لوگ موٹے گرم کپڑے پہننے اور ایک برتن میں سوپ بنانے کا سوچتے ہیں۔ سوپ نہ صرف جسم کو گرم رکھنے کا ایک مزیدار طریقہ ہے بلکہ یہ روزمرہ کے غذائی معمول میں ایک صحت بخش اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔صحیح سوپ کی ترکیب تمام ضروری غذائی اجزاء فراہم کر سکتی ہے اور خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جیسا کہ Eating Well ویب سائٹ نے بتایا ہے۔
کئی قسم کے سوپ میں صحت بخش اجزاء جیسے پروٹین، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے۔یہ سوپ عام طور پر کم سچورٹڈ فیٹ (چکنائی) رکھتے ہیں، جو خاص طور پر اہم ہے کیونکہ دل کی بیماریاں ذیابیطس سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
ماہرین غذائیت پانچ ایسے سوپ کی اقسام کی سفارش کرتے ہیں، جو ذیابیطس کے مریضوں کی صحت اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مددگار ہوں،اس کے علاوہ وہ بہترین سوپ کے انتخاب کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
دال کا سوپ :
دال کا سوپ ایک بہترین انتخاب ہے کیونکہ یہ فائبر اور پودوں سے حاصل شدہ پروٹین سے بھرپور ہے اور اس میں سچوریٹڈ چکنائی بہت کم ہوتی ہے۔ غذائی ماہر وندانا شیتھ کے مطابق ایک کپ پکی ہوئی دال میں 18 گرام پروٹین اور 16 گرام فائبر موجود ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا:یہ غذائی پروفائل اسے تمام اہم عناصر سے بھرپور، لذیذ اور خون میں شکر کی سطح کے لیے موزوں بناتا ہے۔ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ 110 گرام (تقریباً ایک کپ) پکی ہوئی دال کھانے سے کھانے کے بعد خون میں شکر کی سطح میں تقریباً 20 فیصدکمی آتی ہے۔
مینسٹرو نی سوپ :
مینسٹرو نی سوپ ایک مکمل غذا فراہم کرتا ہے، جس میں فائبر، سبزیاں اور پودوں سے حاصل شدہ پروٹین شامل ہوتے ہیں۔ غذائی ماہر اور ذیابیطس کے مریضوں کی دیکھ بھال کی ماہر جیسیکا ڈیگور کے مطابق یہ خصوصیات اسے خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لیے بہترین انتخاب بناتی ہیں۔اگر کسی شخص کو روایتی مینسٹرو نی میں شامل پاستا کی کاربوہائیڈریٹس کی فکر ہو، تو ڈیگور مشورہ دیتی ہیں کہ پوری گندم کی پاستا استعمال کی جائے یا اسے کسی اور مکمل اناج سے تبدیل کیا جائے۔
مرچ والا سوپ :
مرچ والے سوپ میں غذائی فوائد بڑھانے کے لیے بہت سی سبزیاں شامل کی جا سکتی ہیں تاکہ فائبر کی مقدار زیادہ ہو اور گائے کے گوشت کی جگہ مرغی یا ٹرکی استعمال کی جا سکتی ہے تاکہ کل سچوریٹڈ چکنائی کم ہو۔
غذائی ماہر الیسا باتچیکو کے مطابق:مرغی اور بینز کی وجہ سے یہ پروٹین اور فائبر سے بھرپور ہے، جو خون میں شکر کی سطح کو مستحکم رکھتا ہے اور پیٹ بھرنے کا احساس دلاتا ہے۔
سبزیوں کا پیسا ہوا سوپ :
سبزیوں کے پیسے ہوئے سوپ میں بروکلی، ٹماٹر، گاجر اور دیگر سبزیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ یہ فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو سوزش کے خلاف مددگار ہیں اور خون میں شکر کو متوازن رکھتے ہیں۔مزید یہ کہ کئی سبزیوں کے سوپ میں وٹامن A اور C جیسے مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے والے اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں، اور یہ عموماً کم کاربوہائیڈریٹس والے ہوتے ہیں۔
چکن سوپ :
چکن سوپ ایک آرام دہ اور بہترین کھانے کا انتخاب ہے۔ یہ نہ صرف جسم کو گرم رکھتا ہے بلکہ مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے غذائی اجزاء سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ چکن سوپ بنانا آسان ہے اور اس میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کم ہوتی ہے۔
غذائی ماہر جینا جونز سفارش کرتی ہیں کہ ہڈیوں کا یخنی (Bone Broth) استعمال کیا جائے تاکہ پروٹین، وٹامنز اور معدنیات کی مقدار بڑھائی جا سکے۔
اہم نکات :
اجزاء پر دھیان دیں:
ذیابیطس کے مریض اکثر صرف کیلوریز یا کاربوہائیڈریٹس پر دھیان دیتے ہیں۔ ڈیگور کی سفارش ہے کہ سوپ کے اجزاء بھی چیک کریں۔ وہ کہتی ہیں:ایسا سوپ منتخب کریں جس میں کم چکنائی والا پروٹین (مرغی یا بینز)، زیادہ سبزیاں (گاجر، پیاز یا دیگر) اور مکمل اناج سے کاربوہائیڈریٹس (بھورا چاول، کینوا یا فاررو) شامل ہوں تاکہ متوازن اور ذیابیطس کے لیے موزوں کھانے کی ضمانت ہو۔
فائبر شامل کریں:
فائبر ہضم کرنے کی رفتار کو سست کرتا ہے، جس سے گلوکوز آہستہ آہستہ جذب ہوتا ہے اور خون میں شکر مستحکم رہتی ہے۔ فائبر آنتوں کے صحت مند مائیکروبیوم کو بھی سپورٹ کرتا ہے، جو مدافعتی نظام کے لیے اہم ہے۔
سوڈیم کی مقدار چیک کریں:
چاہے آپ مارکیٹ سے کنسرو شدہ سوپ خریدیں یا ریستوران سے لیں، سوپ میں سوڈیم زیادہ ہو سکتا ہے۔ کم سوڈیم یا بغیر نمک والے سوپ کو ترجیح دیں۔ گھریلو سوپ میں بھی کم نمک والا یخنی استعمال کریں اور پکانے کے دوران نمک کی مقدار کم رکھیں۔
سچوریٹڈ فیٹ کم کریں:
وندانا شیتھ کہتی ہیں:ایسا سوپ منتخب کریں جس میں سچوریٹڈ چکنائی کم ہو تاکہ دل کی صحت بہتر رہے، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی بہت اہم ہے۔