غزة میں ہتھیاروں کے حوالے سے فلسطینیوں کے مابین معاہدوں پر کام کر رہے: مصر

غزة کی پٹی کے باشندوں کی رضاکارانہ یا زبردستی بے دخلی کے منصوبوں کو مسترد کرتے ہیں: مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

قاہرہ میں غزة معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے کے لیے کوششیں جاری رہنے کے ساتھ ہی مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک فلسطینیوں کے مابین معاہدوں،جن میں انہیں غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے، پر پہنچنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے اپنے اریٹیرین ہم منصب عثمان صالح کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا کہ قاہرہ ثالثوں کے ساتھ مل کر غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقل ہونے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر جنگ بندی کو مستحکم کرنے، مسئلہ فلسطین کے تحفظ اور فلسطینیوں کے اپنی زمین پر برقرار رہنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ ہم آہنگی

انہوں نے سعودی عرب اور بحیرہ احمر کے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کی تصدیق بھی کی تاکہ باب المندب کو جنگ کے اثرات سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے غزہ کی مزید زمینوں پر قبضہ کرنے کی خواہش کے بارے میں حالیہ اسرائیلی بیانات کو اپنے ملک کی طرف سے مسترد کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم غزة کی پٹی کے باشندوں کی رضاکارانہ یا زبردستی بے دخلی کے منصوبوں کو مسترد کرتے ہیں۔

سوڈان کی تقسیم مسترد، صومالیہ کی وحدت کا احترام

سوڈان کے حوالے سے بدر عبد العاطی نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو بتایا کہ سوڈانی معاملے پر مذاکرات میں مضبوطی سے موجود تھی۔ ایک مشترکہ اور جامع ویژن پر اتفاق کیا گیا جو سوڈان کو تقسیم کرنے کے مقصد سے بنائے گئے کسی بھی منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرنے اور کسی بھی متوازی اداروں کو تسلیم نہ کرنے پر مبنی ہے۔ اس ویژن کے تحت سوڈانی قومی اداروں اور ان کے سربراہ سوڈانی فوج کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔

صومالی معاملے میں مصری وزیر نے صومالیہ کی اس کی تمام اراضی پر وحدت اور خودمختاری کا احترام کرنے اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو مسترد کرنے کے معاہدے کی تصدیق کی۔ انہوں نے نام نہاد "صومالی لینڈ" کے خطے کو اسرائیل کی طرف سے تسلیم کیے جانے کی مذمت بھی کی۔

مثبت جواب

ایک فلسطینی ذریعے نے ’’ العربیہ ‘‘ کو بتایا ہے کہ حماس نے 15 نکات پر مشتمل مصری دستاویز پر اپنا جواب جمع کرا دیا اور یہ جواب مثبت تھا۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ثالث مصری دستاویز کے حوالے سے حماس کی مثبت سوچ پر اسرائیلی اور امریکی جواب کے منتظر ہیں۔

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب کئی فلسطینی دھڑے اور غزة میں تحریک کے سربراہ خلیل الحیہ کی سربراہی میں حماس کی قیادت کا ایک وفد چند روز قبل قاہرہ پہنچا تھا۔ انہوں نے طویل اجلاسوں کا ایک سلسلہ منعقد کیا جس میں قطری وزیر اعظم اور مصری اور ترکیہ کی انٹیلیجنس کے وزراء کے ساتھ ملاقاتیں شامل تھیں۔

گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ امن منصوبے کے نفاذ پر جمود طاری تھا۔ اکتوبر 2025 سے جنگ بندی کے نافذ العمل ہونے کے باوجود فلسطینی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مئی 2026 کے آخر میں کہا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو غزة پر اپنا کنٹرول بڑھا کر 70 فیصد تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج اس وقت پٹی کے تقریباً 60 فیصد رقبے پر کنٹرول رکھتی ہیں۔

یاد رہے اکتوبر 2025 میں امریکی سرپرستی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج کو "ییلو لائین" کہلانے والے علاقے تک پیچھے ہٹنا تھا جس نے اسرائیل کو پٹی کے تقریباً 53 فیصد رقبے پر کنٹرول دینا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں