مغربی کنارا : یہودی آباد کاروں نے چرچ کے نزدیک لگی آگ بجھانے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مغربی کنارے میں بدھ کے روز ایک گرجا گھر کے نزدیک آگ کے شعلے اور دھواں آسمان کی طرف لپکتا دیکھا گیا ۔ لیکن یہودی آباد کاروں نے آگ بجھانے والے عملے کو آگ بجھانے کے لیے جانے سے ہی روک دیا۔

فلسطینی اتھارٹی کے شہری دفاع کے قریبی مرکز سے فائر فائٹنگ موقع پر جا کر آگ بجھانا چاہتی تھی تاکہ آگ کے پھیلاؤ کو روکے اور یہ آگ مسیحیوں کے گرجا گھر کو بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ لیکن یہودی آباد کاروں نے اس عملے کو اس طرف جانے سے ہی جبراً روک دیا ور راستہ بلاک کر دیا۔

مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کے نمائندے نے بھی اس صورت حال کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔ یہودی آباد کاروں کے علاوہ اسرائیلی فوج نے بھی آگ بجھانے والے عملے کو روکے رکھا۔ یہ آگ ایک قریبی پہاڑی جنگل میں لگی تھی۔

تفصیلات کے مطابق مغربی کنارے کے علاقے طیبہ کے ایک مسیحی گاؤں سے جڑی آگ کو اس کے باوجود یہودی آباد کاروں نے بجھانے کی اجازت نہ دی کہ یہ آگ مسیحیوں کے گرجا گھر کے قریب لگی تھی اور گرجا گھر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ آگ منگل کی رات شروع ہوئی تھی۔

خیال رہے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ یہودی آباد کار مقبوضہ مغربی کنارے میں اس طرح کی کسی سماج دشمن سرگرمی میں ملوث ہوئے ہیں۔ البتہ کسی گرجا گھر کو اس طرح نقصان پہنچنانے کی یہ کوشش انتہائی طور پر ناقابل تصور تھی۔

یہودی آباد کاروں کی انہی تشدد پسند سرگرمیوں کی وجہ سے چھ یورپی ملکوں نے اس ہفتے اقدام کیا ہے اور ان پر ایک انتہا پسند وزیر سمیت پابندیاں لگائی ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے پابندیاں لگانے کے واقعے کو توہین آمیز کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔

ایک مسیحی پادری بشارفوادلہ نے اس واقعے کے بارے میں کہا ہےیہودی آباد کاروں نے فائرنگ کی اور آگ بجھانے کے لیے پانی لانے والے لوگوں کو محاصرے میں لے لیا۔ پانی کے ٹینکرز کو بھی روک دیا۔

شہری دفاع کے ترجمان نے کہا اسرائیلی فوج نے بھی کچھ دیر کے لیے آگ بجھانے والے عملے کو روکے رکھا تاہم بعد ازاں سیکیورٹی کلیرنس کے بعد اجازت دے دی۔ بالآخر آگ بجھانے کے عملے کو اسرائیلی فوج نے جانے دیا اور آگ پر قابو پالیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے اس بارے میں 'روئٹرز' کی درخوات کے باوجود کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

غیر انسانی اقدامات کا ایک متواتر انداز

مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کے مطابق بدھ کی صبح تک دھواں اٹھ رہا تھا، جبکہ مسیحی پادری کے بقول یہ آگ بھی کسی کی شرارت کا ہی نتیجہ تھی۔ لیکن وہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ آگ لگا کرمسیحی آبادی اور چرچ کو خطرے میں ڈالنا کسے پسند ہو سکتا ہے۔

بشار فوادلہ نے کہا یہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہ تھا ، بلکہ ایک مسلسل واقعات کا حصہ تھا۔ تاکہ مسیحی آبادی کو دھمکایا جا سکے اور اس کے خلاف تشدد کیا جا سکے۔ لیکن ہمارا یہ حق ہے کہ ہمیں یہاں رہتے ہوئے تحفظ کا احساس ملے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً پچاس ہزار کی تعداد میں فلسطینی مسیحی رہتے ہیں۔ طیبہ مسیحیوں کا اکلوتا گاؤں ہے۔ پچھلے سال یونانی آرتھوڈاکس مسیحی فرقے کے سرپرست اور یروشلم میں رومن کیتھولک چرچ کے کارڈینل نے اس مسیحی گاؤں کا دورہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں