تازہ مرچ کو باقاعدگی سے کھانے کے فوائد
تیز مصالحہ دار ساسز یا پروسیس شدہ مصنوعات کا استعمال صحت کے منفی نتائج دے سکتا ہے
حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تازہ ہری مرچ کو باقاعدگی سے کھانا بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے لیکن تیز مصالحہ دار ساسز یا پروسیس شدہ مصنوعات کا استعمال صحت کے الٹ نتائج دے سکتا ہے۔ طبی ویب سائٹ "ویری ویل ہیلتھ" کے مطابق "کیپسیسن"، جو مرچ کی تیزی کا ذمہ دار مرکب ہے، ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ مطالعات اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہری مرچ کا باقاعدگی سے استعمال بلڈ پریشر پر مثبت اثر ڈالتا ہے کیونکہ "کیپسیسن" نائٹرک آکسائیڈ کے اخراج میں مدد کرتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو خون کی نالیوں کو آرام دہ اور چوڑا کرتا ہے جس سے خون کے بہاؤ میں آسانی ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ ہری مرچ سوزش کو کم کرنے والی سمجھی جاتی ہے کیونکہ "کیپسیسن" میں سوزش اور اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات ہوتی ہیں جو خون کی نالیوں کی صحت کو برقرار رکھنے اور شریانوں کے سخت ہونے اور ہائی بلڈ پریشر کے امکانات کو کم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔
وزن کم کرنے میں مدد
ہری مرچ میٹابولک صحت کو بھی سپورٹ کرتی ہے کیونکہ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ "کیپسیسن" وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور میٹابولزم کو سپورٹ کرتا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ مرچوں سے محبت کرنے والے لوگ نمکین غذاؤں کا استعمال کم کرتے ہیں جو براہ راست بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ تیار شدہ نمکین مصنوعات کے بجائے تازہ یا خشک مرچ کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
تاہم تیزابیت والی ریفلوکس یا بدہضمی کے شکار افراد کو ہری مرچ سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ جلن کو بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جنہیں مرچوں والی خوراک کھانے کے بعد دل کی دھڑکن میں اضافہ، پسینہ آنا، چہرے پر سرخی یا بے چینی محسوس ہوتی ہو، انہیں بھی اس کا استعمال بند کر دینا چاہیے۔ وہ مریض جو بلڈ پریشر یا خون کو پتلا کرنے والی ادویات جیسی مخصوص دوائیں لے رہے ہیں تو یہ ادویات مرچ کے ساتھ تعامل کر سکتی ہیں ۔ انہیں بھی اس سے بچنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔