کیا پنیر دماغ کو ڈیمنشیا سے بچاتا ہے؟ سائنسی تحقیق نے جواب دے دیا
ایک حالیہ سائنسی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ فل فیٹ ڈیری مصنوعات، خاص طور پر چکنائی والا پنیر اور بالائی ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہ نتائج برسوں سے دی جانے والی ان غذائی ہدایات کے برعکس ہیں جن میں سیچوریٹڈ فیٹس سے بچنے کا مشورہ دیا جاتا تھا۔ یہ تحقیق امریکی اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے ’’ نیورولوجی ‘‘ میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق اگرچہ یہ نتائج براہ راست کاز اینڈ ایفیکٹ کا رشتہ ثابت نہیں کرتے لیکن یہ ان مصنوعات کے استعمال اور طویل مدتی دماغی صحت کے درمیان ایک نمایاں تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔
پچیس سال تک نگرانی
محققین نے سویڈن کے 27,670 افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جن کی اوسط عمر مطالعہ کے آغاز پر 58 سال تھی اور انہیں تقریباً 25 سال تک مانیٹر کیا گیا۔ اس دوران 3,208 شرکاء ڈیمنشیا کا شکار ہوئے۔ شرکاء سے ایک ہفتے تک اپنی خوراک ریکارڈ کرنے اور گزشتہ سالوں کے غذائی معمولات کے بارے میں تفصیلی جوابات دینے کو کہا گیا تھا۔
فل فیٹ پنیر
تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو لوگ روزانہ 50 گرام یا اس سے زیادہ فل فیٹ پنیر کھاتے تھے ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 13 فیصد کم پایا گیا جو روزانہ 15 گرام سے کم پنیر کھاتے تھے۔ عمر، جنس اور تعلیم جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ فل فیٹ پنیر کھانے والوں میں واسکولر ڈیمنشیا کا خطرہ 29 فیصد کم تھا۔
الزائمر پر ممکنہ اثرات
محققین نے الزائمر کے خطرے میں بھی کمی نوٹ کی لیکن یہ فائدہ صرف ان لوگوں میں نظر آیا جن میں مخصوص جینیاتی تبدیلیاں (APOE e4) موجود نہیں تھیں۔ اسی طرح روزانہ 20 گرام یا اس سے زیادہ فل فیٹ کریم کھانے والوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 16 فیصد کم پایا گیا جو بالکل کریم نہیں کھاتے تھے۔
تمام ڈیری مصنوعات یکساں نہیں
اس کے برعکس محققین کو کم چکنائی والے پنیر، دودھ، مکھن یا دہی (خواہ وہ فل فیٹ ہوں یا لو فیٹ) کے استعمال اور ڈیمنشیا کے خطرے میں کمی کے درمیان کوئی تعلق نہیں ملا۔ سویڈن کی لنڈ یونیورسٹی کی محقق ایملی سونیسٹڈٹ کا کہنا ہے کہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیری مصنوعات کے صحت پر اثرات مختلف ہوتے ہیں اور روایتی طور پر صرف چکنائی کم کرنے پر توجہ دینا ہمیشہ دماغی صحت کے لیے بہترین انتخاب نہیں ہوتا۔