ٹیننگ بیڈز کا استعمال عمر رسیدگی کو تیز اور کینسر کے خدشات کو کئی گنا بڑھا نے کا سبب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایک حالیہ سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ٹیننگ بیڈز (Tanning Beds) نہ صرف جلد کو سطحی نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ جینیاتی سطح پر جلد کی عمر رسیدگی کو تیز کر دیتے ہیں اور جلد کے خطرناک کینسر (میلانومہ) کے خطرے میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں، حتیٰ کہ جسم کے اُن حصوں میں بھی جو عام طور پر دھوپ کی روشنی میں نہیں آتے۔

مطالعے کے مطابق جو سائنسی جریدے Science Advances میں شائع ہوا اور جسے سائنسی ویب سائٹ ScienceAlert نے رپورٹ کیا، مصنوعی ٹیننگ آلات سے خارج ہونے والی الٹرا وائلٹ شعاعوں کے سامنے آنے سے میلانومہ (جلد کے خطرناک کینسر) کا خطرہ تقریباً تین گنا تک بڑھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلی بار براہِ راست شواہد سامنے آئے ہیں کہ یہ شعاعیں جلد کی پوری متاثرہ سطح پر سرطان کے لیے سازگار موروثی (جینیاتی) تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں۔

صحت مند نظر آنے والی جلد میں خفیہ جینیاتی تبدیلیاں

مطالعے میں شریک محقق ڈاکٹر بیدرام غیرامی جو امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں جلد کے کینسر پر تحقیق کرتے ہیں،انھوں نے بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے بظاہر صحت مند جلد میں بھی خطرناک جینیاتی تبدیلیاں ریکارڈ کیں، یعنی ایسے حصوں میں جہاں نہ کوئی تل (شامات) تھے اور نہ ہی جلدی زخم۔انہوں نے مزید کہا:ہمیں ایسی جینیاتی تبدیلیاں ملیں جو میلانومہ کے آغاز کی بنیاد بن سکتی ہیں، حالانکہ جلد بالکل نارمل دکھائی دیتی تھی اور یہ بات اس سے پہلے کبھی دستاویزی شکل میں سامنے نہیں آئی تھی۔

وسیع پیمانے پر موا زنہ

محققین نے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں جلدی علاج حاصل کرنے والے 32 ہزار سے زائد مریضوں کے طبی ریکارڈز کا تجزیہ کیا، جن میں سے تقریباً 3 ہزار افراد ایسے تھے جن کی مصنوعی ٹیننگ بیڈز کے استعمال کی باقاعدہ تاریخ موجود تھی۔ اس گروپ کا موازنہ عمر اور جنس کے لحاظ سے ایک ایسے مماثل گروپ سے کیا گیا، جس نے کبھی مصنوعی ٹیننگ استعمال نہیں کی تھی۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ ٹیننگ بیڈز استعمال کرنے والوں میں میلانومہ کی شرح 5اعشاریہ1 فیصد تھی، جبکہ غیر استعمال کرنے والوں میں یہ شرح صرف 2اعشاریہ1 فیصد رہی۔ حتیٰ کہ عمر، جنس، خاندانی تاریخ اور دھوپ سے جلنے جیسے عوامل کو مدِنظر رکھنے کے بعد بھی، مصنوعی ٹیننگ استعمال کرنے والوں میں جلد کے کینسر کا خطرہ تقریباً 2اعشاریہ85 گنا زیادہ پایا گیا۔

جلد دہائیوں زیادہ بوڑھی دکھائی دی

سالماتی اثرات کو سمجھنے کے لیے محققین نے 26 رضاکاروں کی جلد کے نمونوں کا تجزیہ کیا اور 182 رنگ دار خلیات (وہ خلیات جن سے میلانومہ پیدا ہوتا ہے) کا ڈی این اے تسلسل (DNA sequencing) کیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ٹیننگ بیڈز استعمال کرنے والوں کی جلد میں جینیاتی تبدیلیوں کی تعداد تقریباً دوگنا تھی، بلکہ تیس اور چالیس سال کی عمر کے بعض افراد میں اتنی زیادہ جینیاتی تبدیلیاں پائی گئیں جو ستر اور اسی برس کے افراد سے بھی زیادہ تھیں۔
اس حوالے سے تحقیق میں شریک محقق ڈاکٹر بیشال ٹنڈوکر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو سےانھوں نے کہا:جینیاتی سطح پر، ٹیننگ بیڈز استعمال کرنے والوں کی جلد اپنی اصل عمر کے مقابلے میں کئی دہائیاں زیادہ بوڑھی دکھائی دیتی ہے۔

سورج کی روشنی سے بھی زیادہ وسیع نقصان

محققین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مصنوعی ٹیننگ استعمال کرنے والوں میں میلانومہ کے کیسز جسم کے اُن حصوں میں سامنے آئے جو عموماً سورج کی روشنی سے محفوظ رہتے ہیں، جیسے کمر کا نچلا حصہ یا کولہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیننگ بیڈز جلد کو مکمل اور ہمہ گیر نقصان پہنچاتے ہیں، نہ کہ صرف مقامی نقصان جیسا کہ قدرتی دھوپ میں ہوتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے مصنوعی ٹیننگ آلات کو درجہ اوّل کے سرطان پیدا کرنے والے عوامل میں شامل کر رکھا ہے، جو وہی درجہ ہے جس میں تمباکو اور ایسبیسٹوس شامل ہیں۔ اگرچہ کئی ممالک میں ان پر پابندی یا سخت پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، تاہم بعض ممالک، جن میں امریکا بھی شامل ہے، وہاں یہ اب بھی دستیاب ہیں۔

محققین نے اس بات پر زور دیا کہ جینیاتی تبدیلیاں ایک بار پیدا ہو جائیں تو انہیں واپس نہیں پلٹایا جا سکتا۔ اس لیے بچاؤ کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ مصنوعی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے، خصوصاً نوعمر افراد میں۔

آخر میں ڈاکٹر غیرامی نے کہا:کم از کم اتنا ضرور ہونا چاہیے کہ کم عمر افراد کے لیے مصنوعی ٹیننگ پر پابندی عائد کی جائے، کیونکہ زیادہ تر مریضوں نے کم عمری میں ہی اس کا استعمال شروع کیا، بغیر اس کے کہ وہ اس کے طویل المدتی خطرات سے پوری طرح آگاہ ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size