تحقیق کے مطابق دوسروں کی مدد کرنا دماغ کو دیر سے بوڑھا ہونےمیں مدد دینے کا سبب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایک جدید سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ہفتے میں چند گھنٹے دوسروں کی مدد کے لیے مختص کرنا دماغ کی بڑھاپے کی رفتار کو نمایاں طور پر سست کرنے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ذہنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ اس کے لیے زیادہ وقت دینے یا باقاعدہ رضاکارانہ سرگرمی میں شامل ہونے کی بھی ضرورت نہیں، یہ بات سائنسی ویب سائٹ "سائنس ڈیلی" پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن کے محققین نے یونیورسٹی آف میساچوسٹس بوسٹن کے تعاون سے کی گئی، اس تحقیق میں تقریباً 20 برس کے عرصے میں 30 ہزار سے زائد بالغ امریکیوں کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ جو افراد اپنے خاندان کے دائرے سے باہر دوسروں کی مدد کے عادی تھے، ان کی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کی رفتار دوسروں کے مقابلے میں زیادہ سست رہی۔

چند گھنٹے مگر طویل المدتی اثرا ت

تحقیق کے نتائج کے مطابق جو جریدہ Social Science Medicine میں شائع ہوئے، ہفتے میں دو سے چار گھنٹے دوسروں کی مدد میں صرف کرنا ذہنی صلاحیتوں میں کمی کی شرح کو 15 سے 20 فیصد تک کم کرنے سے منسلک پایا گیا۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ فائدہ عارضی نہیں تھا بلکہ ان افراد میں برسوں کے دوران بتدریج بڑھتا گیا ،جو اس رویے کو باقاعدگی سے اپنائے رہے۔
اس ضمن میںیونیورسٹی آف ٹیکساس کے شعبۂ انسانی ترقی اور خاندانی علوم کے اسسٹنٹ پروفیسر اور تحقیق کے مرکزی مصنف سائی ہوانگ ہان نے کہا کہ دوسروں کی مدد کا ذہنی اثر محض وقتی نفسیاتی بہتری تک محدود نہیں، بلکہ مسلسل خدمت کے ساتھ یہ ایک واضح اور جمع ہونے والا فائدہ بن کر سامنے آتا ہے۔

دماغ کی عمر بڑھ رہی ہے
دماغ کی عمر بڑھ رہی ہے

تحقیق کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں باقاعدہ رضاکارانہ سرگرمیوں، جیسے اداروں اور تنظیموں میں کام کرنے اور غیر رسمی مدد، مثلاً پڑوسیوں، رشتہ داروں یا دوستوں کی معاونت، کسی کو طبی ملاقات پر لے جانا، بچوں کی دیکھ بھال یا روزمرہ کے سادہ کاموں میں ہاتھ بٹانا،ان سب کا موازنہ کیا گیا۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ دونوں اقسام کی مدد نے دماغی صحت کے لیے تقریباً یکساں فوائد فراہم کیے، جس سے یہ عام خیال غلط ثابت ہوتا ہے کہ صرف باقاعدہ رضاکارانہ کام ہی مثبت اثر ڈالتا ہے۔

ہان نے وضاحت کی کہ غیر رسمی مدد کو اکثر کم اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن اس تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ اس کا ذہنی اثر بھی منظم رضاکارانہ سرگرمی کے برابر ہوتا ہے۔

دماغ کی عمر بڑھ رہی ہے
دماغ کی عمر بڑھ رہی ہے

قومی اعداد و شمار نے نتائج کی مضبوطی کو مزید تقویت دی

محققین نے امریکی "ہیلتھ اینڈ ریٹائرمنٹ اسٹڈی" کے اعداد و شمار پر انحصار کیا، جو 1998 سے 51 برس سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ایک وسیع قومی ڈیٹا بیس ہے۔

تحقیق میں اُن متعدد عوامل کو بھی مدِنظر رکھا گیا جو ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جیسے تعلیمی سطح، معاشی حالت، اور جسمانی و نفسیاتی صحت۔ان تمام عوامل کو قابو میں رکھنے کے بعد بھی دوسروں کی مدد اور ذہنی صلاحیتوں میں سست روی سے آنے والی کمی کے درمیان تعلق برقرار رہا، جبکہ نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ دوسروں کی مدد سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرنا ذہنی صلاحیتوں میں زیادہ تیزی سے زوال سے وابستہ پایا گیا۔

صحتِ عامہ اور بڑھاپے کے حوالے سے اہم اشارا ت

محققین کے مطابق یہ نتائج اس بات کی بھرپور تائید کرتے ہیں کہ رضاکارانہ سرگرمیوں اور سماجی روابط کو صحتِ عامہ کی حکمتِ عملیوں کا حصہ بنایا جانا چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب معمر افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور ڈیمنشیا اور الزائمر جیسے امراض کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

دماغ کی عمر بڑھ رہی ہے
دماغ کی عمر بڑھ رہی ہے

تحقیق میں اسی ٹیم کی سابقہ مطالعات کا بھی حوالہ دیا گیا، جن سے ظاہر ہوا کہ رضاکارانہ خدمات دائمی ذہنی دباؤ اور جسم میں سوزش کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں اور یہ دونوں عوامل ایسے حیاتیاتی اسباب ہیں، جن کا تعلق ذہنی صلاحیتوں میں کمی سے جوڑا جاتا ہے۔
آخر میں ہان نے کہا کہ بہت سے بزرگ افراد، حتیٰ کہ وہ بھی جو صحت کے مسائل کا شکار ہیں، اب بھی اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے قیمتی خدمات انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہی وہ طبقہ ہے جو اس عطاء سے حقیقی اور نمایاں ذہنی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں