انسانیت کو ایک پراسرار سگنل موصول… کیا یہ خلائی مخلوق کا پیغام ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

زمین پر موجود انسانیت کو خلا سے صرف دس سیکنڈ دورانیے کا ایک پراسرار پیغام موصول ہوا، جس نے اسے ریکارڈ کرنے میں کامیاب ہونے والے سائنس دانوں میں خوف اور حیرت کی لہر دوڑا دی۔ یہ پیغام جسے تاحال سمجھا نہیں جا سکا، ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا اس کا مرکز کوئی خلائی مخلوق تو نہیں جو زمین سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دس سیکنڈ پر مشتمل یہ پیغام یا سگنل خلا کی گہرائیوں میں کسی نامعلوم مقام سے آیا ہے، جس کے باعث قیاس آرائیوں اور امکانات کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی شائع کردہ ایک رپورٹ جسے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی دیکھا، کے مطابق اس پراسرار سگنل کا مرکز کائنات کے سب سے دور دراز مقامات میں سے ایک ہے، جبکہ سائنس دان اب تک اس پیغام کی اصل نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔زمین سے تعلق رکھنے والے دو مصنوعی سیاروں نے تصدیق کی ہے کہ یہ پراسرار سگنل زمین سے تقریباً 13 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک مقام سے آیا ہے اور غالب امکان ہے کہ یہ اس وقت ہونے والے ایک عظیم سپرنووا دھماکے کا نتیجہ ہو، جب کائنات کی عمر صرف 730 ملین سال تھی۔

خلا میں کوئی جتنا زیادہ دور ہو، اس کی روشنی (یا سگنل) کو ہم تک پہنچنے میں اتنا ہی زیادہ وقت لگتا ہے۔ اس لیے جب ہم کسی نہایت دور دھماکے یا ستارے کو دیکھتے ہیں تو درحقیقت ہم اربوں سال پہلے ہونے والے واقعے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، گویا یہ ایک ٹائم مشین ہو جو ہمیں ماضی دکھا رہی ہو۔

اس معاملے میں سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ یہ انتہائی طاقتور گاما شعاعوں کا دھماکہ، جسے انہوں نے (GRB 250314A) کا نام دیا ہے، تاریخ کے آغاز سے اب تک ریکارڈ کیا جانے والا سب سے قدیم سپرنووا دھماکہ ہے۔

گاما شعاعیں روشنی کی نہایت طاقتور اور نظر نہ آنے والی اقسام میں شمار ہوتی ہیں۔ یہ ستاروں کے دھماکے کائنات میں معلوم سب سے طاقتور تابکاری کے ذرائع سمجھے جاتے ہیں، جو عظیم الجثہ ستاروں کے دھماکوں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور زمین پر انتہائی روشن چمکدار جھماکوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔

سائنس دان اب بھی اس بات کا یقین سے تعین نہیں کر سکے کہ کائنات کے ابتدائی دور کا یہ قدیم سپرنووا آج کی جدید اور نسبتاً قریب کائنات میں نظر آنے والے ستاروں کے دھماکوں سے اتنا مشابہ کیوں ہے۔ اگر واقعی یہی دھماکہ اس سگنل کا اصل منبع ہے، تو ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی کے محققین کا خیال ہے کہ ابتدائی دور کے ستارے جسامت میں زیادہ بڑے اور درجۂ حرارت میں زیادہ گرم تھے اور وہ اس پراسرار سگنل سے ظاہر ہونے والے اندازوں سے کہیں زیادہ شدید دھماکے پیدا کرتے تھے۔

کہتے ہیں کہ نیدرلینڈز کی ریڈباوڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اشاروں پر نئی تحقیق کے مرکزی مصنف اینڈریو لیون کے مطابق:گزشتہ پچاس برسوں میں صرف چند ہی گاما رے دھماکے ریکارڈ کیے گئے ہیں جو کائنات کی عمر کے پہلے ایک ارب سال سے تعلق رکھتے ہوں۔

یہ خاص واقعہ انتہائی نایاب اور بے حد دلچسپ ہے۔اس اشارے کو پہلی بار 14 مارچ 2025 کو دریافت کیا گیا، جب خلائی سیٹلائٹ اسپیس میں متغیر اجسام کی رصدگاہ نے اسے گہرے خلا سے آنے والی انتہائی طاقتور روشنی کی اچانک چمک کی صورت میں ریکارڈ کیا۔

حال ہی میں اس دور دراز اشارے کے ممکنہ ماخذ پر دو مطالعے شائع کیے گئے ہیں۔یہ خلائی مشن فرانس اور چین کے سائنس دانوں کا مشترکہ منصوبہ ہے، جسے پوری کائنات میں اس قسم کے دھماکوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

سائنس دانوں کی جانب سے ریکارڈ کیا گیا یہ اشارہ دراصل گاما شعاعوں کا ایک مختصر مگر انتہائی طاقتور دھماکہ تھا۔ گاما شعاعیں توانائی کی وہ غیر مرئی لہریں ہیں جو ایکس ریز سے بھی زیادہ طاقتور ہوتی ہیں اور انسانی جسم کو براہِ راست عبور کر کے خلیات، ڈی این اے اور بافتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

تاہم چونکہ یہ دھماکہ غالباً زمین سے 13 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک پھٹتے ہوئے ستارے سے پیدا ہوا، اس لیے زمین تک پہنچنے والی گاما شعاعیں اتنی کمزور تھیں کہ انسانوں کے لیے کسی قسم کا خطرہ پیدا نہیں ہوا۔یہ دھماکہ تقریباً 10 سیکنڈ تک جاری رہا، کیونکہ گاما رے دھماکے خلا میں تیز رفتار آتش بازی کی مانند ہوتے ہیں، جو بہت کم وقت میں بے پناہ توانائی خارج کرتے ہیں اور پھر فوراً ختم ہو جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size