ایران جنگ کے باعث جاپانیوں میں دوبارہ ’ٹوائلٹ پیپر فوبیا‘ پیدا ہو گیا
سنہ 1973ء کے تیل بحران اور کرونا وبا جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہونے کا خدشہ
جاپان میں سوشل میڈیا کے بعض صارفین نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر ٹوائلٹ پیپر کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ دوسری جانب جاپانی حکومت نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹوائلٹ پیپر کی بڑی مقدار میں خریداری سے گریز کریں، جیسا کہ سنہ 1973ء کے تیل کے بحران اور "کورونا" وائرس کی وبا کے دوران ہوا تھا۔
جاپانی وزارتِ معیشت، تجارت اور صنعت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "جاپان میں گھریلو ٹوائلٹ پیپر تیار کرنے والی ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً تمام ٹائلٹ پیپر مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں اور اس کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال بھی مقامی طور پر جمع کیا گیا ردی کاغذ اور گودا ہوتا ہے"۔
وزارت نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ اس معاملے میں مشرقِ وسطیٰ پر انحصار بہت کم ہے، لہٰٰذا پیداوار براہِ راست متاثر نہیں ہوتی۔ حکام نے پیداوار میں اضافے کی صلاحیت کی موجودگی کی بھی تصدیق کی ہے۔ وزارت کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہم آپ سے گذارش کرتے ہیں کہ معتبر معلومات کی بنیاد پر سوچ سمجھ کر فیصلے کریں"۔
یاد رہے کہ جاپان میں سنہ 1973ءکے تیل کے بحران کو اکثر ٹوائلٹ پیپر کی کمی سے جوڑا جاتا ہے، کیونکہ اس وقت ممکنہ قلت کی افواہیں پھیل گئی تھیں جس کے باعث صارفین نے اسے بڑی مقدار میں خرید کر ذخیرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایسی ہی صورتحال کورونا وائرس کی وبا کے دوران بھی دیکھنے میں آئی تھی۔
ایران اور امریکی و اسرائیلی اتحاد کے درمیان جنگ آج 22 ویں دن میں داخل ہو چکی ہے، جس میں میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کا تبادلہ جاری ہے جو کئی خلیجی ممالک تک پھیل چکا ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے امریکہ، اسرائیل اور ان ممالک کے بحری جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جنہیں تہران اپنے خلاف فوجی کارروائی میں مددگار سمجھتا ہے۔