3حیران کن نشانیاں، کیا آپ کی شریکِ حیات آپ کی ہم روح ہے؟
عام طور پر ہم آہنگی (Compatibility) کے بارے میں ایک ایسی عام تصوراتی تصویر پیش کی جاتی ہے، جس میں لگتا ہے کہ ایک شخص اور اس کی شریکِ حیات ہر اہم معاملے پر متفق ہوتے ہیں، شاذ و نادر ہی جھگڑتے ہیں، ان کی بات چیت کبھی ختم نہیں ہوتی اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ بھرپور توانائی محسوس کرتے ہیں۔
بلاشبہ جب کسی رشتے کو اس قدر مثالی انداز میں دکھایا جائے تو وہ بہت پُرکشش لگتا ہے، لیکن نفسیاتی تحقیق کے مطابق یہ تصویر مکمل طور پر قابلِ بھروسا نہیں ہوتی۔
امریکی جریدے "فوربس" میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق درحقیقت کسی کے لیے موزوں شریکِ حیات ہونے کی نشانیاں اکثر زیادہ خاموش اور غیر معمولی ہوتی ہیں، جیسا کہ عام تصور میں دکھایا جاتا ہے۔
یہ نشانیاں رشتے کے نمایاں لمحات میں نہیں بلکہ روزمرہ کی سادہ اور عام گھڑیوں میں ظاہر ہوتی ہیں، جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔اگر کوئی شخص اپنے رشتے کو ایک مثالی معیار پر پرکھتا ہے اور اسے اس سے کم تر پاتا ہے، تو شاید اسے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کہیں وہ غلط چیزوں کو تو اہمیت نہیں دے رہا۔
1 ۔ایک ساتھ بوریت محسوس کرنا
یہ نقطہ اکثر لوگوں کو حیران کر دیتا ہے۔ ایک ایسی ثقافت میں جہاں جوش و خروش اور سرگرمی کو اچھے رشتوں کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، بوریت ایک منفی علامت لگ سکتی ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے ایسا نہیں ہے۔کسی کے ساتھ ایک عام اور پرسکون لمحہ گزارنے کی صلاحیت بغیر کسی فکر، کارکردگی دکھانے کی خواہش یا فون میں مصروف ہونے کےرشتے میں حقیقی تحفظ (سیکیورٹی) کی سب سے بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے، جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
آن لائن مباحثوں میں ٹریفک سرکل ٹیسٹ کا ذکر بھی آیا ہے: اگر کوئی شخص کسی بورنگ صورتحال میں (جیسے ٹریفک میں انتظار) کسی کے ساتھ وقت گزار کر بھی سکون محسوس کرے، تو یہ ایک اہم اشارہ ہے۔ یہ لازمی طور پر رومانوی اشارہ نہیں، بلکہ ایک گہری اور مضبوط تعلق کی علامت ہے۔
نیوروسائنس کے مطابق جب دماغ محفوظ تعلق قائم کرتا ہے، تو یہ ڈوپامین کی فوری سطح کے اچانک بڑھنے کی تلاش میں نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسے پیٹرن پر قائم رہتا ہے، جو حفاظت اور باہمی سپورٹ پر مبنی ہوتا ہے۔
اس لیے اگر کوئی جوڑا ابتدا میں شدید جوش و خروش کے ساتھ تعلق شروع کرتا ہے اور بعد میں وہ جوش کم ہو کر ایک پرسکون دن جیسا معمولی وقت بن جاتا ہے، تو یہ موجودہ حالات سے مطمئن ہونے کی علامت نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تحفظ محسوس کرنے کی نشانی ہے۔ طویل رشتے میں، سکون اور تحفظ جوش و خروش سے زیادہ پائیدار عنصر ہیں۔
2۔بار بار دہرائے جانے والے اختلافات
طویل اور صحت مند تعلق رکھنے والے جوڑے اکثر بتاتے ہیں کہ وہ ایک ہی نوعیت کے موضوعات پر جھگڑتے رہتے ہیں،یہ کبھی کبھار نہیں بلکہ باقاعدگی سے ہوتا ہے۔
یہی اختلاف سال بہ سال تھوڑے بہت فرق کے ساتھ دوبارہ سامنے آتا ہے۔ یہ کچھ لوگوں کے لیے خوفناک لگ سکتا ہے کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ حقیقی ہم آہنگ جوڑے تک اس وقت تک اپنے اختلافات حل کر چکے ہوتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق سوال غلط طرح سے پوچھا جا رہا ہے۔ ہم آہنگی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ایسے شخص کو تلاش کرنا جس کے ساتھ اختلافات نہ ہوں، بلکہ یہ ہے کہ ایسا شخص ملے جو اختلافات کے سامنے آنے پر صحیح طریقے سے نبرد آزما ہوکیونکہ اختلافات ہمیشہ پیدا ہوتے ہیں۔
وہ جوڑے جن کے تعلقات دیرپا رہتے ہیں، ان کی کامیابی کا راز یہ نہیں کہ اختلافات نہیں ہوتے بلکہ یہ ہے کہ وہ کس معیار اور طریقے سے بار بار ہونے والے اختلافات کو حل کرتے ہیں۔
ماہر نفسیات ایلی ونکل کی ایک رینڈمائزڈ اسٹڈی جرنل Psychological Science میں شائع ہوئی، اس حوالے سے مفید بصیرت فراہم کرتی ہے۔
ایک تحقیق میںجوڑوں سے کہا گیا کہ وہ اختلافات کو ایک تیسرے غیرجانبدار فریق (جو دونوں کا خیرخواہ ہو) کے نقطہ نظر سے دوبارہ دیکھیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ اس سے وقت کے ساتھ شادی کے اطمینان میں قابلِ ذکر بہتری آئی۔یہ تکنیک اس لیے کامیاب ہوئی کیونکہ اختلاف حل ہوا، بلکہ اس لیے کہ اس نے ہر فرد کے اختلاف سے نمٹنے کے طریقے کو بدل دیا۔
ہم آہنگ جوڑے اختلاف کو ایک مشترکہ مسئلہ سمجھ کر حل کرتے ہیں، نہ کہ مقابلے کی صورت میں جس میں ایک جیتے اور ایک ہارے۔اس تصور کو عملی شکل دینے کے لیے ایک مشکل بات چیت کے 24گھنٹوں کے اندر یہ چیزیں نوٹ کریں:
کیا ضرورت پڑنے پر بات دوبارہ کی جاتی ہے؟
کیا ذمہ داری قبول کی جاتی ہے یا معافی دی جاتی ہے بغیر کہ کسی نے کہا ہو؟
کیا عجیب طور پر تعلق تھوڑا مضبوط محسوس ہوتا ہے بعد از امتحان؟
کسی تعلق میں اگر جھگڑا نہ ہو تو یہ لازمی نہیں کہ یہ حقیقی ہم آہنگی کی علامت ہو۔ یہ صرف اس بات کا مطلب ہو سکتا ہے کہ ایک فرد ہمیشہ سمجھوتہ کرتا رہتا ہے اور یہ خاموشی اکثر ایک قیمت رکھتی ہے۔
3۔ آدھا حصہ کے تصور کا نقصان
رومانوی ثقافت میں منتقل ہونے والے تمام تصورات میں شاید آدھا حصہ (The Other Half) کا خیال سب سے زیادہ نقصان دہ ہو۔
اس تصور کے مطابق صحیح شخص ہر جذباتی کردار ادا کرے گا،یعنی قریبی دوست، مہم جو ساتھی، فکری ہم خیال، نفسیاتی معاون اور زندگی کے اندرونی مشاہدات کا شریک۔
یہ خیال کسی بھی تعلق پر اتنا بوجھ ڈال دیتا ہے ،جو کوئی بھی رشتہ برداشت نہیں کر سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص سے اتنی توقعات رکھنا حقیقت پسندانہ نہیںاور یہ اکثر رشتے میں مایوسی اور دباؤ پیدا کر دیتا ہے۔
حقیقت میں مضبوط اور ہم آہنگ تعلق اس بات سے پہچانا جاتا ہے کہ ہر فرد اپنی خود کی زندگی، جذبات اور حمایت کے وسائل رکھتا ہے اور رشتہ ایک اضافی سہارا اور ہم آہنگی فراہم کرتا ہے نہ کہ مکمل جذباتی بوجھ اٹھانے والا واحد ذریعہ۔
نفسیات کے مطابق حقیقی ہم آہنگی
نفسیات ایک مختلف ماڈل پیش کرتی ہے کہ مستقل ہم آہنگی کیسا محسوس ہوتی ہے۔ اسے "رابطہ" (Bonding) کہا جاتا ہے، جو ایک خاص نوعیت کے قریب ہونے کی حالت کو بیان کرتا ہے: قربت بغیر مکمل ملاپ کے اور تعلق بغیر الجھاؤ کے۔
اس قسم کے تعلق میں دونوں افراد کی زندگی رشتے کے ساتھ متوازی ہوتی ہے اور یہ صرف اس میں محدود نہیں ہوتی۔ ہر فرد رشتے میں کچھ اضافہ کرتا ہے کیونکہ وہ کسی حد تک پہلے سے ایک الگ جگہ پر موجود رہا ہے۔
تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ تعلق میں اطمینان صرف اس بات سے حاصل نہیں ہوتا کہ ایک فرد دوسرے کی تمام جذباتی ضروریات پوری کرے۔
2018 میں Genus جرنل میں شائع ایک مطالعے کے مطابق لوگ سب سے زیادہ خوش رہتے ہیں ،جب ان کی زندگی میں مضبوط متعدد روابط موجود ہوں، جیسے دوستیاں، خاندان اور ذاتی مشغلے۔
یہ بیرونی تعلقات شراکت کے مقابل نہیں بلکہ اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ جذباتی دباؤ کم کرتے ہیں، خود اعتمادی بڑھاتے ہیں اور رشتے کو ایک محفوظ پناہ گاہ بناتے ہیں نہ کہ واحد جگہ جہاں انسان موجود ہو۔
لمبے عرصے تک خوش دکھائی دینے والے جوڑے شاذ و نادر ہی یہ کہتے ہیں : میری شریکِ حیات میری دنیا کا سب کچھ ہے۔
زیادہ تر یہ لوگ اپنے ذاتی دوست، الگ مشغلہ اور اندرونی زندگی برقرار رکھتے ہیں اور رشتے میں اسے فروغ دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ رشتہ یہ سب پیدا کرے۔
اسی نقطہ نظر سے کسی بھی شریکِ حیات کو مکمل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ حقیقت میں یہ توقع اکثر رشتے پر دباؤ ڈالتی ہے اور اسے کمزور کرتی ہے۔
اصل ہم آہنگی اس وقت ظاہر ہوتی ہے ،جب دونوں افراد پرسکون لمحات میں سکون محسوس کریں،چاہے یہ خاموشی ہو، پرانے اختلافات پر قابو پانے کے بعد کا سکون ہو یا اپنی پوری ذات کے ساتھ آزاد رہنے کا احساس۔
-
بھرے پیٹ کے باوجود کھانے کی خواہش کیوں؟ ماہرین نے وجہ بتا دی
ایک شخص کھانا کھا کر مکمل طور پر سیر ہو جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود خود کو کسی ہلکی ...
ایڈیٹر کی پسند -
شیف یاسمینہ سلام کی باورچی خانے میں حفاظتی اور درست طریقوں کی ہدایت
الجزائری شیف یاسمینہ سلام نے تأکید کی ہے کہ باورچی خانے کی ترقی اس کی اصل شناخت پر ...
بين الاقوامى -
نوجوانی میں بننے والی دوستیاں: دماغ اور جذباتی تعلقات کا راز
ایک حالیہ تحقیق جو نوجوانوں کی سماجی ترقی پر مرکوز ہے،اس سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ...
ایڈیٹر کی پسند