لمبی عمر کا راز، خوشی کی پانچ بنیادی عادتیں
کبھی کبھی انسان اپنے آپ سے ایسے سوالات کرتا ہے جیسے: کیا میں ایک اچھی زندگی گزار رہا ہوں؟ یا وہ کون سی چیز ہے، جس پر میں اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں دل کی گہرائی سے مسکرا سکوں؟
یہ سوالات آسان نہیں ہوتے، لیکن ویب سائٹ Marc Angel کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کا جواب اُن لوگوں کے تجربات سے لیا جا سکتا ہے، جو 90 سال سے زیادہ عمر پا چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق زندگی بھر حقیقی خوشی حاصل کرنے کے لیے درج ذیل اصولوں پر عمل کیا جا سکتا ہے:
1۔ منفی خود تنقیدی پر قابو پانا
والٹ ڈزنی کے مشہور قول کے مطابق انسان کو ماضی میں زیادہ دیر تک نہیں الجھنا چاہیے بلکہ آگے بڑھتے رہنا چاہیے، نئے دروازے کھولنے چاہئیں اور نئے تجربات کرنے چاہئیں، کیونکہ تجسس ہمیشہ نئے راستوں کی طرف لے جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے کاموں کا ضرورت سے زیادہ جائزہ لینے یا دوسروں سے موازنہ کرنے میں نہیں پڑنا چاہیے اور نہ ہی یہ سوچنا چاہیے کہ دوسرے اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، کیونکہ اس میں زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔
اس کے بجائے انسان کا اصل کام تخلیق کرنا، اپنی فطرت کے مطابق رہنا اور ہر دن اپنی پوری کوشش کرنا ہے۔ ضروری ہے کہ انسان خود کو ملامت کرنے کی عادت کو اپنے شوق اور صلاحیتوں کے اظہار میں رکاوٹ نہ بننے دے۔
2۔ مشکل کاموں کو مسلسل کرتے رہنا
زیادہ تر لوگ اپنے خوابوں سے بہت جلد ہار مان لیتے ہیں۔ وہ تعلیم مکمل کر کے بڑے خواب دیکھتے ہیں، لیکن جب عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب ان کے تصور سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔وہ چیلنجز اور ناکامیوں کا سامنا کرتے ہیں اور بعض اوقات انہیں لگتا ہے کہ وہ آگے نہیں بڑھ رہے۔
ونسٹن چرچل کے مطابق کامیابی دراصل مسلسل ناکامیوں کے باوجود حوصلہ نہ ہارنے کا نام ہے۔ اصل طاقت یہی ہے کہ مشکل حالات میں بھی جدوجہد جاری رکھی جائے۔
3۔ حال پر توجہ مرکوز رکھنا
زندگی میں بہترین عمل یہ ہے کہ انسان موجودہ لمحے کو پوری طرح اور بہترین انداز میں استعمال کرے، کیونکہ مستقبل کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کہی جا سکتی۔لہٰذا محنت کوشش اور جستجو ضرور ہونی چاہیے، لیکن پوری توجہ حال پر رہنی چاہیے تاکہ زندگی کے اصل مواقع ضائع نہ ہوں۔
4۔ توقعات چھوڑنے سے ذہنی سکون حاصل کرنا
چھوڑ دینے کا مطلب ماضی کو بھول جانا نہیں بلکہ موجودہ لمحے کو قبول کرنے کی حکمت حاصل کرنا ہے۔ ہر مشکل صورتحال یا تو مایوسی کا سبب بن سکتی ہے یا ترقی کا موقع یہ انتخاب انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
اس لیے ایسی سوچوں اور توقعات کو چھوڑ دینا چاہیے جو فائدہ نہیں دیتیں۔ چیزوں کو چھوڑ دینا بعض اوقات انسان کو زیادہ مضبوط اور خوش بنا دیتا ہے۔
5۔ سیکھنا جاری رکھنا اور علم بانٹنا
امریکی فلسفی رالف والڈو ایمرسن کے مطابق زندگی کا مقصد خوش رہنا، فائدہ مند بننا، دیانتدار اور مہربان رہنا اور اپنی زندگی سے مثبت اثر چھوڑنا ہے۔
دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں ،جو خود کو بہتر بناتے ہیں اور پھر اپنی سیکھ کو دوسروں کی بھلائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اصل کامیابی کوشش، مسلسل سیکھنے ،سوال کرنے، سننے اور علم کو مثبت تبدیلی کے لیے استعمال کرنے میں ہے۔