کامیابی کے سات نفسیاتی اصول جو آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں

کچھ ایسی خصوصیات ہوتی ہیں ،جو کسی شخص کے مستقبل کی پیشگوئی اس کے IQ (ذہانت کی سطح) سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے کرتی ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بہت سے لوگ کامیابی کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن ہر کوئی اسے حاصل نہیں کر پاتا۔ ٹائمز آف انڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق کامیابی کسی غیر معمولی لاٹری جیتنے یا محض خوش قسمتی کا نتیجہ نہیں ہوتی۔

نفسیات کے مطابق کامیابی ایک ایسا عمل ہے ،جس کے راز ماہرینِ نفسیات کئی دہائیوں سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق کچھ ایسی ذاتی خصوصیات ہوتی ہیں ،جو کسی فرد کے مستقبل کی پیشگوئی اس کے IQ (ذہانت کے معیار) سے بھی زیادہ بہتر انداز میں کرتی ہیں، جو درج ذیل ہیں:

1- ترقی پذیر ذہنیت :

جامد ذہنیت رکھنے والے لوگ سمجھتے ہیں کہ ذہانت یا صلاحیت پیدائشی ہوتی ہےیا تو انسان ذہین ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ لیکن ترقی پذیر ذہنیت کے مطابق ''ابھی نہیں ہوا، لیکن ہو سکتا ہے ''۔

ایک اہم سوچ ہے۔جب کوئی شخص نئی مہارت سیکھنے میں مشکل محسوس کرتا ہے تو اس کے دماغ میں نئے نیورل راستے (Neural Pathways) بنتے ہیں۔ یہ بالکل پٹھوں کی طرح ہے جو دباؤ اور مشق سے مضبوط ہوتے ہیں۔ ''میں اس میں کمزور ہوں'' کہنے کے بجائے بہتر سوال یہ ہے: ''اگلی بار مجھے کیا بہتر کرنا چاہیے؟'' یہی سوچ انسان کو مسلسل ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔

کامیابی کا اظہار (ایسٹاک)
کامیابی کا اظہار (ایسٹاک)



2- مضبوط عزم :

عزم یعنی جذبہ اور مسلسل محنت کا امتزاج۔ ماہرِ نفسیات اینجلا ڈک ورتھ کے مطابق یہ کامیابی کا سب سے اہم اشارہ ہے۔ کامیابی کوئی مختصر دوڑ نہیں بلکہ ایک طویل میراتھن ہے ،جو کئی سالوں پر محیط ہوتی ہے۔

یہ صلاحیت انسان کو روزمرہ مشکلات کے باوجود اپنے طویل مدتی مقصد پر قائم رکھتی ہے۔ کامیاب لوگ وہ نہیں ہوتے جو کبھی ناکام نہیں ہوتے، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو بار بار ناکامی کے باوجود رکتے نہیں۔

3- سوچی سمجھی اور مرکوز مشق :

یہ محض بار بار کام دہرانا نہیں بلکہ شعوری طور پر کمزوریوں پر کام کرنا ہے۔ کیریئر میں روزانہ کم از کم 90 منٹ مکمل توجہ کے ساتھ کسی ایک مہارت پر کام کرنا بہت مؤثر ہوتا ہے۔

اس دوران تمام رکاوٹیں جیسے موبائل، نوٹیفکیشنز اور غیر ضروری چیزیں بند ہونی چاہئیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایسی مہارت پر توجہ دی جائے جو مشکل لگتی ہو، تاکہ وقت کے ساتھ اس میں مہارت اور درستگی پیدا ہو سکے۔

4- مضبوط اور مؤثر تعلقات :

ہارورڈ کے ماہرِ نفسیات ''رابرٹ والڈنگر'' کی 80 سالہ طویل تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ انسان کی صحت اور کامیابی کا سب سے بڑا عنصر اس کے تعلقات ہوتے ہیں۔

کامیابی کوئی اکیلا سفر نہیں بلکہ ایک اجتماعی عمل ہے۔جن لوگوں کے پاس مضبوط اور مثبت تعلقات ہوتے ہیں وہ زندگی میں زیادہ محفوظ، پُرسکون اور کامیاب رہتے ہیں۔

5- پہلے دینے کی عادت :

یہ اصول کہتا ہے کہ انسان کو تعلقات بڑھانے کے لیے صرف ذاتی فائدے کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے بلکہ پہلے دوسروں کو فائدہ دینا چاہیے۔یہ فائدہ کسی کا تعارف کروانا، کوئی مفید مضمون شیئر کرنا یا کسی کو مشورہ دینا بھی ہو سکتا ہے۔ جب آپ بغیر فوری فائدے کے دیتے ہیں تو اعتماد اور مواقع خود بڑھتے ہیں۔

6- معیار زیادہ اہم ہے، تعداد نہیں :

کامیابی کے لیے ہزاروں فالوورز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے بجائے چند مضبوط اور قابلِ اعتماد لوگ زیادہ اہم ہوتے ہیں، جو مشکل وقت میں ساتھ دیں۔ایک چھوٹا مگر مضبوط نیٹ ورک اکثر بڑے مگر کمزور نیٹ ورک سے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے، کیونکہ اصل مواقع اعتماد اور گہرے تعلقات سے آتے ہیں۔

7- واضح مقصد اور مضبوط محرک :

ماہرِ نفسیات وکٹر فرینکل کے مطابق زندگی میں سب سے طاقتور چیز مقصد کا ہونا ہے۔ جب انسان کے پاس واضح مقصد اور اندرونی محرک ہو تو وہ کسی بھی مشکل یا رکاوٹ سے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بغیر مقصد کے انسان جلد تھک جاتا ہے، لیکن مقصد کے ساتھ وہ مشکل حالات میں بھی آگے بڑھتا رہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں