مکہ مکرمہ میں حراء ثقافتی ضلع میں قرآن کریم کا میوزیم ایک بھرپور ثقافتی اور علمی تجربہ فراہم کر رہا ہے۔ یہ میوزیم زائرین کے لیے قرآن کریم کی تاریخ اور اس کے علوم کو دریافت کرنے کا راستہ کھول دیتا ہے۔ یہاں ان نایاب نسخوں اور نوادرات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جو مختلف ادوار میں قرآن کی کتابت کے سفر کی دستاویز ہیں۔ یہ اس خاص توجہ کی عکاسی کرتا ہے جو مسلمانوں نے اسلام کے آغاز سے آج تک اللہ کی کتاب کے لیے برتی ہے۔
میوزیم اپنے پاس موجود منفرد نمونوں میں سے ایک ایسا مصحف بھی پیش کر رہا ہے جو تانبے کی تختیوں پر کندہ ہے۔ اسے قاضی عصمت اللہ خان نے تیار کیا تھا۔ اس کا تعلق 12ویں صدی ہجری یعنی 18ویں صدی عیسوی سے ہے۔ یہ اسلامی فنون کی مہارت اور درستی کے ساتھ ساتھ مصحف کی کتابت میں برتی گئی اس خاص توجہ کی علامت ہے جس میں خوبصورتی اور علمی باریک بینی یکجا ہو گئی ہے۔
یہ نایاب مصحف شاہ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک سٹڈیز کے محفوظ ذخائر میں سے ہے۔ شاہ فیصل ریسرچ سنٹر اسلامی ورثے کی حفاظت، اس کی بحالی اور اسے محققین اور دلچسپی رکھنے والوں کے لیے دستیاب کرنے پر توجہ دیتا ہے تاکہ اسلامی تہذیبی ورثے کو محفوظ کیا جا سکے اور اس کی علمی موجودگی کو بہتر بنایا جائے۔
یہ فنی کام اسلامی خطاطی اور تزئین و آرائش کے فنون میں راسخ روایات کا تسلسل ہے جس کے ذریعے قرآن کریم کی کتابت کو بہترین صورت میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں چمڑے اور کاغذ سے لے کر دھاتوں تک مختلف مواد اور تکنیکیں استعمال کی گئیں۔ یہ سب اللہ کی کتاب کے ساتھ مسلمانوں کے گہرے تعلق اور اسے تخلیقی و عقیدت بھرے انداز میں لافانی بنانے کی ان کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔
مملکت سعودی عرب کے ثقافتی ادارے ان تاریخی خزانوں کو نمایاں کرنے اور زائرین کو ان کی تہذیبی و علمی قدر سے آگاہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ اقدامات ثقافتی منظرنامے کی حمایت اور قرآن کریم کی تاریخ و اسلامی تہذیب میں اس کے مقام کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی جامع کوششوں کا حصہ ہیں۔
مکہ مکرمہ کا قرآن کریم میوزیم دنیا میں قرآن کے ممتاز ترین عجائب گھروں میں شمار ہوتا ہے جہاں نایاب نوادرات، تاریخی نسخے اور دنیا کا سب سے بڑا مصحف (2.30 میٹر × 3.28 میٹر) جدید انداز میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں دنیا کا سب سے بڑا مصحف پیش کرنے پر اس میوزیم نے گنیز ورلڈ ریکارڈز کی سند حاصل کی ہے جو عہدِ نبوی سے قرآن کریم کی تدوین کی تاریخ کو دستاویزی شکل میں پیش کرتا ہے۔
یہ میوزیم بذاتِ خود ایک مکمل ثقافتی اور سیاحتی منزل کی حیثیت رکھتا ہے جو زائرین اور عمرہ کرنے والوں کے تجربے کو بھرپور بناتا ہے اور انہیں ایسے ثقافتی منصوبوں کے ذریعے مکہ مکرمہ کے تہذیبی و مشنری پہلو سے روشناس کراتا ہے جو اس کی مذہبی و تاریخی حیثیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
سعودی ’’ ویژن 2030 ‘‘ میں عجائب گھروں کو خاص اہمیت دی گئی ہے جہاں "میوزیم اتھارٹی" کی قیادت میں انہیں ایک بنیادی ستون کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اس متحرک ثقافتی شعبے کو ورثے کے محافظ اور قومی شناخت کے فروغ کے ذریعے میں تبدیل کیا جا سکے۔ سعودی عرب کے اس ویژن کا مقصد موجودہ عجائب گھروں کو ترقی دینا اور نئے عالمی و عصری عجائب گھر قائم کرنا ہے تاکہ معاشرتی تعامل کو بڑھایا جا سکے اور ثقافت کو طرزِ زندگی میں تبدیل کیا جا سکے۔