سرخ اور سنہری رنگوں سے جگمگاتے ہال میں صندل اور عود کی خوشبو فضا میں آہستہ آہستہ پھیل رہی تھی، جبکہ سوڈانی دلہن سر ڈھانپنے کے لیے استعمال ہونے والا روایتی کپڑا اوڑھے بیٹھی تھی۔
یہ منظر یوں محسوس ہو رہا تھا، جیسے دریائے نیل کی قدیم یادوں سے نکلی کوئی جیتی جاگتی تصویر ہو۔ڈھولک کی تھاپ اور خوشی کے درمیان نکلنے والی آوازوں کے ساتھ سوڈانی شادی کی روایتی رسم شروع ہوئی۔
یہ رسم اب صرف شادی کی تقریب کا حصہ نہیں رہی بلکہ ایک ایسی ثقافتی علامت بن چکی ہے، جو سرحدوں سے آگے بڑھ کر دنیا کو سوڈانی تہذیب کی گہرائی سے روشناس کرا رہی ہے۔
ثقافتی ورثے کا نایاب زیور
سوڈانی شادی کی روایتی رسم کو سوڈانی روایات کی نمایاں ترین رسومات میں شمار کیا جاتا ہے، جو عرب اور افریقی تہذیب کے منفرد امتزاج کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ صرف ایک شادی کی رسم نہیں بلکہ عوامی روایت کے مطابق نیک شگون لانے اور دلہا دلہن کو بری نظر سے محفوظ رکھنے کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔
اس حوالے سے سوڈان کے ثقافتی، سماجی اور تاریخی ورثے کے محقق صلاح الامین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ''جرتق'' کی روایت، شادی اور ختنے جیسی دیگر خوشی کی رسومات کی طرح غالباً قدیم سوڈانی سلطنتوں سے جڑی ہوئی ہے۔
ان کے مطابق اس رسم کی اصل جڑیں شمالی وادیٔ نیل کے علاقے میں ہیں، جہاں سے یہ بعد میں دیگر علاقوں تک پھیلی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ سوڈان کے گرد و نواح کے بیشتر علاقوں میں یہ رسم موجود نہیں، البتہ بربر (امازیغ) اقوام میں شادی کی ایک ملتی جلتی روایت پائی جاتی ہے۔
صلاح الامین کے مطابق ملکہ امانی شخیتو کے آثار دریافت ہونے پر ایسی اشیاء بھی ملی تھیں جنہیں ''جرتق'' میں استعمال ہونے والے آلات سے مشابہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ ان میں بعض اشیاء کے نام بھی غیر عربی بنیادوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تاج پوشی کا لمحہ
پروفیسر عبداللہ الطیب کے مطابق لفظ ''جرتق'' اپنے اندر گہری علامتی معنویت رکھتا ہے اور یہ ''تاج پوشی'' کے مفہوم کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں دلہے کو ایک خاص لمحے میں بادشاہ کی حیثیت دی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس تاریخی تسلسل کے آثار قدیم نقوش میں بھی نظر آتے ہیں، جیسے "المصورات" کے مندروں کی دیواروں پر بنی تصاویر، جن میں ایک دلہا جشن کے ماحول میں ہاتھ میں کوڑا تھامے دکھایا گیا ہے۔ یہ منظر موجودہ روایت کو کرمہ اور مروی جیسی قدیم تہذیبوں سے جوڑتا ہے۔
نیل اور کھجور کی زبان
صلاح الامین نے بتایا کہ ''جرتق'' میں سرخ رنگ، دودھ کی بخور اور بعض خوشبوؤں کا استعمال ایک ایسے عوامی عقیدے سے جڑا ہے، جس کے مطابق یہ چیزیں بری روحوں کو دور رکھنے کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ''دودھ چھڑکنے کی رسم ''اور ''کمر بند کاٹنے کی تقریب '' کی رسومات کا آغاز دلہا دلہن کے سروں پر '' سر پر رکھی جانے والی روایتی پٹی ''رکھنے اور صندل کی خوشبو جلانے سے ہوتا ہے۔
اس کے بعد ''دودھ چھڑکنے کی رسم ''کی رسم ادا کی جاتی ہے، جس میں دلہا اور دلہن دودھ پیتے ہیں اور ایک دوسرے پر چھڑکتے ہیں، جو محبت، پاکیزگی اور باہمی الفت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اس کے بعد'' کمر بند کاٹنے کی رسم ''کی تقریب ہوتی ہے، جس میں دلہا دلہن کی کمر پر بندھی '' دلہن کی کمر پر بندھا ہوا روایتی دھاگہ یا پٹہ ''کو کاٹتا ہے اور حاضرین پر پھل نچھاور کرتا ہے۔
اس موقع پر روایتی گیت اور خوشی بھری آوازیں ماحول کو جوش و خروش سے بھر دیتی ہیں، یہ تقریب صرف ایک ذاتی لمحہ نہیں رہتی بلکہ خاندانی اور سماجی رشتوں کو مضبوط بنانے والی اجتماعی تصویر بن جاتی ہے۔
محقق کے مطابق ''سوڈانی شادی کی روایتی رسم ''کی بعض رسومات میں دریائے نیل کی جانب علامتی رخ بھی شامل ہوتا ہے، جہاں دلہا دلہن کی روانگی کی تقریب نیل کی سمت کی جاتی ہے۔
یہ روایت سوڈانی ثقافت میں دریائے نیل کے روحانی اور علامتی مقام کو ظاہر کرتی ہے، جسے زندگی اور برکت کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔
عنقریب سے ٹک ٹاک تک
سوڈانی شادی کی روایتی رسم اب صرف خرطوم یا سودان کے دیہی علاقوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اس خوبصورت روایت کو نئی زندگی دے دی ہے۔
اس کے شوخ رنگوں اور منفرد علامتوں نے اسے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر ایک مقبول "ٹرینڈ" بنا دیا، جہاں اس کی ویڈیوز لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہیں۔
پروفیسر عون الشریف قاسم اور ڈاکٹر یوسف مختار الامین کی تحقیقات کے مطابق یہ روایت گہرے انسانی اور ثقافتی امتزاج کا نتیجہ ہے، جس نے ایک ایسی تہذیبی شناخت پیدا کی جو اپنی دلکش بصری زبان کے ذریعے دنیا سے رابطہ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
صلاح الامین نے مزید بتایا کہ یہ رسم صرف سوڈان تک محدود نہیں رہی بلکہ شمالی وادیٔ نیل کے علاقوں سے ہوتی ہوئی چاڈ، اریٹیریا اور جنوبی سوڈان تک بھی پھیل چکی ہے، جو اس ثقافتی ورثے کے وسیع اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
یاد رہے کہ اس انسانی اور ثقافتی اہمیت کے اعتراف میں یونیسکو نے گزشتہ دسمبر '' سوڈانی شادی کی روایتی رسم ''کو غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
جدید طرزِ زندگی کے باوجود یہ روایت آج بھی وقت کا مقابلہ کر رہی ہے اور ایک ہی "صینیہ" (سجی ہوئی تھالی / بڑی تھالی (جس میں رسم کے سامان رکھے جاتے ہیں)کے گرد خاندان کو جمع کر کے پورے معاشرے کی تاریخ اور شناخت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔