آپ کا خون شاید 700 ملین سال پرانا راز چھپائے ہوئے ہے
خون آکسیجن کی منتقلی سے کہیں بڑھ کر کام کرتا، اس کے خلیات بیماریوں کا سبب بننے والے جراثیم کا پیچھا کرتے ہیں
انسان، ڈایناسور اور مچھلیوں کے وجود سے بھی بہت پہلے شاید قدیم یک خلوی جاندار جسم کے اہم ترین نظاموں میں سے ایک یعنی خون کا جینیاتی خاکہ لیے ہوئے تھے۔ ویب سائٹ ’’ سائنس ڈیلی ‘‘کے مطابق ’’ کیوٹو یونیورسٹی ‘‘ کی ایک نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ خون کے خلیات کا آغاز تقریباً 700 ملین سال پہلے ہوا تھا۔ یہ ایک ایسے وقت میں تھا جب زمین پر پہلے کثیر خلوی جاندار ابتدائی مراحل میں تھے۔
مختلف انواع میں مدافعتی اور خون کے خلیات کی ارتقائی تاریخ کا سراغ لگا کر محققین کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ انسانی مدافعتی نظام کے کچھ حصے شاید ان خوردبینی اجداد سے وراثت میں ملے ہیں جو پیچیدہ زندگی کے ارتقا سے بہت پہلے رہتے تھے۔
خون کے خلیات
آج خون صرف آکسیجن کی منتقلی سے کہیں بڑھ کر کام کرتا ہے کیونکہ اس کے خلیات بیماریوں کا سبب بننے والے جراثیم کا پیچھا کرتے ہیں۔ خراب ٹشوز کی مرمت کرتے ہیں، سوزش کو متحرک کرتے ہیں اور مدافعتی دفاع کو منظم کرتے ہیں۔ خون کے خلیات کیسے کام کرتے ہیں، اس پر دہائیوں کی تحقیق کے باوجود سائنسدانوں کو اب بھی ایک بنیادی سوال کا جواب دینے میں مشکل کا سامنا ہے کہ یہ خلیات اصل میں کہاں سے آئے؟
اس معاملے کی جانچ کے لیے تحقیقاتی ٹیم نے مختلف حیوانات اور خلیات کی اقسام کے درمیان جینز کی سرگرمی کا موازنہ کرنے کا ایک نیا طریقہ تیار کیا۔ پھر انہوں نے اس ڈیٹا کو ارتقائی ٹریز کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جو یہ دکھاتے ہیں کہ سینکڑوں ملین سالوں میں خون کے خلیات کے خاندان کیسے پیدا ہوئے اور ان میں تنوع آیا۔ گزشتہ کئی تحقیقات کے برعکس محققین نے اپنے تجزیے میں یک خلوی جانداروں کو بھی شامل کیا جس نے انہیں جدید خون کے خلیات اور قدیم یک خلوی جانداروں کے درمیان جینیاتی روابط تلاش کرنے کی اجازت دی۔
قدیم جینز سے ملنے والے شواہد
انسانی خون کے خلیات کے جن خاندانوں کا معائنہ کیا گیا، ان میں میکروفیج نے یک خلوی جانداروں کے ساتھ سب سے مضبوط مماثلت دکھائی جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ خون کے پہلے خلیات شاید میکروفیج جیسے ہی تھے۔ محققین نے ’’ ایف او ایس ‘‘جین کا بھی سراغ لگایا جو حیوانات کی اقسام میں خون کے خلیات میں بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسے یک خلوی خلیہ تک جاتا ہے جو تقریباً 700 ملین سال پہلے رہتا تھا۔ ان کے نتائج بتاتے ہیں کہ خون کے پہلے خلیات اسی دور میں ظاہر ہوئے جب کثیر خلوی جاندار نمودار ہونا شروع ہوئے تھے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ ابتدائی جانوروں نے شاید یک خلوی اجداد سے وراثت میں ملنے والے جینیاتی مواد کو دوبارہ استعمال کر کے خون کے پہلے خلیات بنائے ہوں گے۔ تجزیہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ماسٹ خلیات (Mast cells) بعد میں میکروفیج سے الگ ہوئے جس کے بعد ماسٹ خلیات سے عام ٹی خلیات (T-cells) اور خون کے سرخ خلیات نمودار ہوئے۔ ایسا لگتا ہے کہ عام بی خلیات (B-cells) ماسٹ خلیات کی علیحدگی کے بعد میکروفیج سے شاخ کی صورت میں نکلے۔
700 ملین سال پرمحیط حیاتیاتی ورثہ
700 ملین سال پر محیط خون کے خلیات کے ارتقائی خاندانی درخت کو دوبارہ ترتیب دے کر محققین نے پایا کہ اس قدیم تاریخ کے اثرات اب بھی جدید خون کے خلیات کی نشوونما کے راستوں میں گہرے جڑے ہوئے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ آج ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں میں گردش کرنے والے خون اور مدافعتی خلیات ایک حیاتیاتی ورثے کا حصہ ہیں جو یک خلوی اجداد سے نسل در نسل منتقل ہوا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ہیروشی کاواموٹو کہتے ہیں۔ نتائج واضح کرتے ہیں کہ ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں میں خون کے خلیات کی تفریق کے راستے ان خلیات کی 700 ملین سال پر محیط ارتقائی تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔ سپین کے انسٹی ٹیوٹ آف ایوولوشنزری بائیولوجی سے تعلق رکھنے والے اس تحقیق کے پہلے محقق یوسوکے ناگاہاتا کہتے ہیں کہ جب میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ قدیم ورثہ میرے جسم میں خون کے خلیات کی شکل میں گردش کر رہا ہے تو میں اپنے دور کے اجداد سے زیادہ قربت محسوس کرتا ہوں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے لیے تیار کردہ طریقہ سائنسدانوں کو کینسر جیسی بیماریوں کے ارتقائی اسباب کا مطالعہ کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے جس سے بیماری کے طریقہ کار کو بہتر طور پر سمجھنے اور نئے علاج کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔