بچوں کے سکرین استعمال کرنے کے وقت میں کمی پر مجبور کر دینے والی وجوہات

بچپن کے دوران جو کچھ ہوتا ہے اس میں سے بعض چیزوں کا ازالہ بعد میں ممکن نہیں ہوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

ایک نئی تحقیق، جو اس شعبے میں تازہ ترین ریسرچ کا جائزہ لیتی ہے، کے مطابق سکرینیں بچوں کے دماغوں میں مستقل تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں۔ سی ٹی وی نیوز نے "برین ہیلتھ" جریدے کے حوالے سے شائع کیا ہے کہ نظریاتی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بچپن میں رونما ہونے والے بہت سے واقعات ان مہارتوں اور چیلنجوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں جن کا سامنا افراد کو بعد کی زندگی میں کرنا پڑتا ہے۔

حساس دائرہ کار

محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نشوونما کے دوران حسی تجربات، حرکت اور سماجی تعلقات ثقافت اور ماحول کے ساتھ مل کر شخصیت کا گہرا اور بعض اوقات ناقابل واپسی تعین کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے محققین اس تصور کو "حساس دائرہ کار" کا نام دیتے ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ اسے یہ نام دیا گیا ہے۔ اس تحقیق کے شریک محقق اور "نیویارک اسٹیٹ یونیورسٹی" کے میڈیکل کالج میں نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر جولیو لیسینیو نے یہ وضاحت کی۔

لیسینیو نے مزید کہا کہ بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ نشوونما کا ایک حساس دور ہوتا ہے جو پیدائش سے لے کر 25 سال کی عمر تک پھیلا ہوا ہے۔ دماغ پر جو کچھ نقش ہو جائے گا وہ باقی زندگی کے لیے بچے کی شناخت کا تعین کرے گا۔ یہ دعوے ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں۔

بچوں کا موبائل فون کا استعمال - iStock
بچوں کا موبائل فون کا استعمال - iStock

نوجوان سکرینوں کے سامنے جو طویل وقت گزارتے ہیں وہ ان کی نشوونما اور شخصیات کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ ۔ لیسینیو کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس سوال کا جواب نہیں دیتی کیونکہ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے دہائیوں کی تحقیق درکار ہوگی۔ لیکن وہ والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے تب تک کا انتظار نہ کریں۔

نمایاں خدشات

نیو جرسی میں پرنسٹن سائکو تھراپی سینٹر کی کلینیکل سائیکالوجسٹ میلیسا گرین برگ، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھیں، کہتی ہیں کہ سب سے نمایاں خدشات میں سے ایک یہ ہے کہ سکرینیں نوجوانوں کو بہت شدت سے متحرک کرتی ہیں کیونکہ وہ ان کے قریب ہوتی ہیں اور انہیں تیز مناظر اور شوخ رنگوں جیسی چیزوں میں مصروف رکھتی ہیں۔ اس کے بعد بچے کو باقی ہر چیز بورنگ لگنے لگتی ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ بچے ان چیزوں میں کم دلچسپی لینے لگتے ہیں جنہیں پہلے پرلطف سمجھا جاتا تھا جیسے سکرینوں سے دور دوستوں کے ساتھ کھیلنا، ساحل سمندر پر جانا یا سائیکل چلانا۔ لیکن یہ سرگرمیاں سماجی، حرکی اور حسی مہارتوں کو فروغ دیتی ہیں جنہیں ریسرچ نے بچپن کے مرحلے میں انتہائی اہم ثابت کیا ہے۔

سکرین کے وقت میں کمی، رابطوں میں اضافہ

لیسینیو والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو سکرینوں سے دور رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے دوسروں کے ساتھ بات چیت میں زیادہ وقت گزاریں۔ خواہ یہ بات چیت ان کے ساتھ ہو یا دوسرے بچوں کے ساتھ ہو۔ جہاں اس تحقیق نے بچپن کے تجربات کے نفسیاتی اثرات پر توجہ مرکوز کی تو لیسینیو نے یہ بھی کہا کہ سکرین کا استعمال جسمانی طور پر بھی نقصان دہ ہے۔ یہ بچوں کے موٹاپے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی سرگرمی کو کم کرتا ہے بلکہ بہت سے بچے دیکھتے ہوئے کھانا بھی کھاتے ہیں۔

ابتدائی سامنا

نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اگر دماغ کے وہ حصے جو زبان اور بولنے جیسے افعال کے ذمہ دار ہیں، جیسا کہ بروکاس ایریا بچپن میں استعمال نہ کیے جائیں، تو بعد میں انہیں دوبارہ بنانا آسان نہیں ہوگا۔ محققین نے بتایا کہ بچپن غیر ملکی زبان سیکھنے کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ یہی بات بہت سی مہارتوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ اس مطالعے کے مطابق وولف گینگ امادیوس موزارٹ کئی وجوہات کی بنا پر موسیقی کے جینیئس بنے جن میں سب سے اہم وجہ چھوٹی عمر میں موسیقی سے ان کا سامنا ہونا تھا۔

بچوں کا موبائل فون کا استعمال - iStock
بچوں کا موبائل فون کا استعمال - iStock

یہ سچ ہے کہ وہ مشق کرتے تھے اور ان کے پاس آلات موسیقی تک رسائی جیسی سہولیات موجود تھیں لیکن ان کے پاس موسیقی میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ضروری اعصابی بنیادیں بھی تھیں جن کے بارے میں محققین نے بتایا ہے کہ وہ صرف بچپن ہی میں بنتی ہیں۔ اسی وجہ سے بچپن بچوں کو موسیقی، آرٹ اور زبانوں جیسی چیزوں سے متعارف کروانے کا ایک اہم وقت ہے۔ ان کو سیکھنے میں وقت گزارنا ڈیجیٹل آلات پر وقت ضائع کرنے سے کہیں بہتر ہے۔

سکرینوں کو دور کرنا

یہ مطالعہ اس ریسرچ کے بڑھتے ہوئے ذخیرے میں اضافہ کرتا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بچوں کو سکرینوں سے دور رکھنا ضروری ہے۔ گرین برگ نے کہا کہ یہ تشویش کہ اگر بچے سے سکرین واپس لے لی گئی تو وہ غصے سے پھٹ پڑے گا، ایسا نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس کے برعکس اگر بچہ سکرین پر انحصار کرتا ہے اور اسے واپس لینے پر غصہ دکھاتا ہے تو شاید یہ ایسا کرنے کی ایک زیادہ مضبوط وجہ ہے۔

گرین برگ نے مشورہ دیا کہ فون یا ٹیبلٹ واپس لیتے وقت بچے کو اس کے ردعمل کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ وہ ضد نہیں کر رہا، برا برتاؤ نہیں کر رہا یا والدین کی بات نہیں سن رہا بلکہ صورت حال یہ ہے کہ اسے ایک ایسی چیز دی گئی تھی جو لت لگاتی ہے اور پھر اسے واپس لے لیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ والدین کو اس دوران خود کو بھی ملامت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہر کوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ چل رہا ہے اور اس کے اثرات کو سمجھ رہا ہے۔

سوچی سمجھی پلاننگ

اگر سکرینوں کو ہٹانا مسائل کا باعث بنے گا تو ایک منصوبے پر عمل کرنا شروع کرنا چاہیے۔ گرین برگ وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ سکرینوں کو یکدم چھیننے کے بجائے اس وقت کے بارے میں سوچنا چاہیے جس میں کامیابی کا بہترین موقع یقینی بنایا جا سکے۔ مثال کے طور پر اس موسم گرما میں ساحل سمندر یا پول پر جاتے وقت سکرین کو ہٹایا جا سکتا ہے۔

ان کاموں کے منصوبے بنائے جانے چاہئیں جو اس وقت کو پُر کرنے کے لیے کیے جا سکتے ہیں جبکہ والدین اپنے بچے کی مہارتوں کو نکھارنے میں اس کی مدد کر رہے ہوں چاہے وہ بورڈ گیمز کھیلنا ہو، سائیکل چلانا سیکھنا ہو یا کمیونٹی سروس میں رضاکارانہ طور پر کام کرنا ہو۔ گرین برگ نے مزید کہا کہ اگر وسائل دستیاب ہوں تو خاندان کے اضافی افراد کی موجودگی اور ماہرین سے مدد لینا بھی مفید ہو سکتا ہے۔

والدین کو یاد رکھنا چاہیے کہ بچے سکرینوں پر ان کے اپنے کاموں کو بھی دیکھتے ہیں۔ بچوں کو تنقیدی سوچ سکھانا اور سکرینوں سے دور اپنے وقت سے لطف اندوز ہونا ایسی مہارتیں ہیں جو انٹرنیٹ پر محض سکرولنگ کرنے کے مقابلے میں ان کے ذہنوں میں زندگی بھر کے لیے راسخ کرنے کے لیے بہت بہتر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں