سمندری تجارت کی نمائش اور اُملج کے تاریخی بحری جہاز کی دو صدیاں پرانی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے تاریخی بندرگاہی شہر جدہ میں قائم ریڈ سی میوزیم میں جاری ’غرق شدہ خزانے: بحیرۂ احمر کا بحری ورثہ‘ کے عنوان سے نمائش میں بحیرۂ احمر کی سمندری تجارت، جہاز رانی اور آبی آثارِ قدیمہ کی دو صدیوں پر محیط تاریخ کو منفرد انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق نمائش کا مرکزی حصہ اُملج کے تاریخی بحری جہاز کی کہانی پر مشتمل ہے، جو ایک تجارتی جہاز سے آثارِ قدیمہ کے اہم مقام میں تبدیل ہو گیا۔

محققین نے مٹی کے برتنوں، چینی چینی مٹی کے برتن اور جہاز کے تجارتی کارگو اور وسیع تجارتی نیٹ ورک کی عکاسی کرنے والے دیگر نمونے دریافت کیے ہیں۔ (SPA)
محققین نے مٹی کے برتنوں، چینی چینی مٹی کے برتن اور جہاز کے تجارتی کارگو اور وسیع تجارتی نیٹ ورک کی عکاسی کرنے والے دیگر نمونے دریافت کیے ہیں۔ (SPA)

رپورٹ کے مطابق تقریباً 40 میٹر طویل یہ تجارتی جہاز اُملج کے ساحل کے قریب مرجانی چٹانوں سے ٹکرا کر 22 میٹر گہرے پانی میں ڈوب گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مقام بحیرۂ احمر کی سمندری تاریخ کا اہم آثارِ قدیمہ کا مرکز بن گیا، جہاں دو صدیوں سے زیادہ عرصے کی یادگاریں محفوظ ہیں۔

اس مقام کی دریافت 2007 میں ہوئی، جبکہ 2015 میں باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی کھدائی کا آغاز کیا گیا۔ ماہرین کو کھدائی کے دوران مٹی کے برتن، اٹھارویں اور انیسویں صدی کے نیلے اور سفید چینی ظروف اور جہاز کے تجارتی سامان سے متعلق متعدد نوادرات ملے، جو اُس دور کی سمندری تجارت کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمائش میں آثار قدیمہ کی دریافتوں کو تاریخی کہانی سنانے کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، جس میں املوج جہاز کے ملبے کو ایک تجارتی جہاز سے پانی کے اندر آثار قدیمہ کے مقام اور قدرتی چٹان کے مسکن میں تبدیل کیا گیا ہے۔ (SPA)
نمائش میں آثار قدیمہ کی دریافتوں کو تاریخی کہانی سنانے کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، جس میں املوج جہاز کے ملبے کو ایک تجارتی جہاز سے پانی کے اندر آثار قدیمہ کے مقام اور قدرتی چٹان کے مسکن میں تبدیل کیا گیا ہے۔ (SPA)

نمائش میں بتایا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ سمندری تلچھٹ اور مرجانی چٹانوں نے جہاز کے ملبے کو ڈھانپ لیا، جس سے یہ مقام نہ صرف آثارِ قدیمہ بلکہ قدرتی تنوع کا بھی اہم حصہ بن گیا۔ نمائش کے اختتام پر ایک انٹرایکٹو سیکشن کے ذریعے زیرِ آب آثارِ قدیمہ کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔

منتظمین کے مطابق یہ نمائش سعودی عرب کے بحری ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے، بحیرۂ احمر کی تاریخی تجارتی اہمیت کو نمایاں کرنے اور مستقبل کی نسلوں کے لیے زیرِ آب تاریخی مقامات کے تحفظ سے متعلق شعور بیدار کرنے کی کوشش ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں