سعودی وزارت داخلہ کے سکیورٹی ترجمان کرنل طلال الشلھوب نے زور دے کر کہا کہ مملکت مقدس مقامات کو ایسے نعروں کا میدان نہیں بننے دے گی جو اسلامی قانون کے مقاصد سے دور ہیں۔ سکیورٹی حکام اس ضابطے کی مکمل پابندی کریں گے۔ کسی بھی طرح سے حجاج کی سلامتی کو متاثر کرنے کی تمام کوششوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ جو بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ ضیوف الرحمن کی سلامتی اور حفاظت ایک ریڈ لائن ہے جسے عبور کرنا برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔
حج سیزن کے لیے روزانہ کی پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے عازمین حج کو مقدس مقامات تک آسانی سے اور اطمینان بخش طریقے سے پہنچانے کے منصوبے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کا اعلان کیا ۔ حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام سے منیٰ تک پہنچانے کا کام مکمل کرنے کا اعلان کیا۔ عازمین حج نے یوم ترویہ اور رات بھر منی میں گزاری اور وہاں سے عرفات کی طرف جانے کی تیاری کی۔
انہوں نے اپنی تقریر میں کہا پکڑی گئی جعلی حج مہموں کی تعداد 160 ہے۔ جو گاڑیاں واپس کی گئیں ان میں آج تک ایک لاکھ 35 ہزار 98 گاڑیاں شامل ہیں۔ غیر قانونی حج کی کوشش میں چھ ہزار 135 مقیم افراد کو پکڑا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مکہ کے غیر رہائشیوں کی تعداد دو لاکھ 50 ہزار 381 تک پہنچ گئی ہے۔ حج کی کوشش میں 2 لاکھ 56 ہزار 481 ایسے افراد کو پکڑا گیا ہے جن کے پاس وزٹ ویزا تھا۔