شام میں 600 سے زیادہ یورپی شہری لڑ رہے ہیں: فرانس

یورپی جنگجوؤں کی شامی جنگ میں شرکت بڑا سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فرانسیسی وزیرداخلہ مینول والز کا کہنا ہے کہ اس وقت چھے سو سے زیادہ یورپی شہری شام میں جاری جنگ میں شریک ہیں اور ان میں ایک سو بیس کا تعلق فرانس سے ہے۔

فرانسیسی وزیرداخلہ نے یہ اعداد وشمار العربیہ ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں فراہم کیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یورپی جنگجوؤں کا شام میں جاری خانہ جنگی میں شریک ہونا ایک سنگین اور بڑا سکیورٹی اور دہشت گردی کا چیلنج بن چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان جہادیوں میں سے بہت سے القاعدہ سے وابستہ گروپوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں اور ان کی اپنے اپنے ملکوں کو واپسی کی صورت میں ان ممالک کی سکیورٹی خطرے سے دوچار ہوجائے گی۔اس ضمن میں انھوں نے تیونس کی مثال دی ہے جہاں آئے دن جنگجو گروپ حکومت کے لیے مسائل پیدا کرتے رہتے ہیں۔

یورپی یونین کے رکن ممالک نے جمعہ کو اس معاملے میں باہمی تعاون سے اتفاق کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ شام میں لڑنے والے شہریوں کی واپسی کی صورت میں انھیں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ نے سوشل میڈیا کی نگرانی سخت کرنے سے بھی اتفاق کیا ہے اور وہ شام کے پڑوسی ممالک ترکی وغیرہ سے اس ضمن میں تعاون کریں گے۔انھوں نے یورپی پارلیمان سے ایک قانون کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے جس کے تحت مشرق وسطیٰ کا سفر کرنے والے مشتبہ افراد کی نگرانی کی جاسکے گی۔

قبل ازیں جمعہ ہی کو روس کی وفاقی سلامتی سروس کے سربراہ الیگزینڈر بورتنی کوف نے کہا ہے کہ شامی باغیوں کی صفوں میں دو سو روسی شہری شامل ہیں اور وہاں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف جنگی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں ۔

ان کے بہ قول اس وقت شام میں موجود غیرملکی جنگجوؤں کی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔اس سے تمام ممالک کو سنگین خطرہ درپیش ہے۔روسی عہدے دار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں جنگجو بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوکر شام میں جنگی کارروائیوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

امریکی حکام بھی شام میں سخت گیر اسلامی جنگجوؤں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔وہ انھیں انتہا پسند اور جہادی عناصر قرار دیتے ہیں لیکن کچھ عرصہ قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شامی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کو ''جبهة النصرۃ'' (النصرت محاذ) کے سخت جان جانبازوں کی بدولت ہی میدان جنگ میں کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں اور وہ شام کے شمالی علاقوں میں تیزی سے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے مقابلے میں پیش قدمی کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں