القاعدہ نے پاکستانی اور عراقی جیلوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی
گوانتا نامو بے سے قیدی چھڑانے کے لیے بھی کارروائی کر سکتے ہیں:الظواہری
القاعدہ نے پاکستان کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک اور عراق کی دو جیلوں پر تازہ حملوں کے نتیجے میں چھڑوائے گئے سینکڑوں قیدیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ القاعدہ گوانتا ناموبے سے قیدیوں کوچھڑوانے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے۔ القاعدہ رہنما ایمن الظواہری نے اس امر کا اظہار بدھ کے روز انٹرنیٹ پر جاری کیے گئے ایک آڈیو بیان میں کیا ہے۔
ایمن الظواہری نے گوانتاناموبے میں بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا '' ہمارا اللہ کے ساتھ یہ عہد ہے کہ ہم اپنے ساتھی تمام قیدیوں کو چھڑوانے کے لیے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کریں گے۔'' انہوں نے امریکی قید میں موجود لوگوں کے حوالےسے کہا ان قیدیوں میں عمرعبدالرحمان،عافیہ صدیقی اور خالد شیخ محمد،ان قیدیوں میں سرفہرست ہیں، جبکہ دنیا کا ہر مظلوم مسلمان خواہ وہ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتا ہو وہ ہمارا ہے۔''
القاعدہ رہنما نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس حوالے سے کیا کارروائی کر سکتی ہے۔ اگرچہ ماضی میں عسکریت پسند مبینہ طور پر یورپی باشندوں کو اغواء کرتے رہے ہیں اور بعد ازاں انہیں اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں ۔
القاعدہ نے پاکستان اورعراق میں بیک وقت جیلوں سے رہا کرائے گئے قیدیوں کی مجموعی تعداد ساڑھے سات سو بتائی ہے۔ ایمن الظواہری نے امریکہ کی طرف سے ڈرون حملوں کی بھی مذمت کی اور کہا یہ حملے درحقیقت امریکہ کی جانب سے شکست تسلیم کرنا ہے۔
نہوں نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا'' یہ جاسوس طیارے امریکہ کو شکست سے نہیں بچا سکتے'' صدر اوباما کو مخاطب کرتے ہوئے القاعدہ رہنما نے کہا ''تم نفرت کا بیج بو رہے ہو اور انتقام کو خود دعوت دے رہے ہو''۔ ایمن الظواہری نے شام میں حزب اللہ کی مداخلت کو ایرانی بالادستی قائم کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔