ایران:سابق انٹیلی جنس وزیر نے جوہری سمجھوتے کی مخالفت کردی
6 بڑی طاقتوں سے سمجھوتے کی بعض شقیں ایران کے خلاف ہیں:حیدرمصلحی
ایران کے سراغرسانی کے سابق وزیر حیدر مصلحی نے چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے والے ایرانی وفد پر کڑی تنقید کی ہے اور اس پر ملک کے مفادات کے منافی جامع سمجھوتے پر دستخط کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔
فارسی زبان کی نیوز ویب سائٹ راجا نیوز کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر نے تہران میں طلبہ کے ایک اجتماع سے تقریر میں وزیر خارجہ جواد ظریف کی سربراہی میں ایرانی وفد پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ''اس سمجھوتے کی بعض شقیں ایران کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔امریکا کا ہاتھ اب اوپر ہوگیا ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق ہمارے آئیڈیاز کو کنٹرول کرسکتا ہے''۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے ساتھ ایران کا گذشتہ ماہ جنیوا میں عبوری سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت ایران آیندہ چھے ماہ کے دوران افزودہ یورینیم کو پانچ فی صد کی سطح تک لائے گا اور اپنی بیس فی صد تک افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کردے گا۔
اس سمجھوتے کے تحت جوہری ری ایکٹر پر کام کرے گا اور نہ اس ری ایکٹر کی جگہ پر ایندھن یا بھاری پن کو منتقل کرے گا۔اس کے بدلے میں اس پر عاید پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی۔اس سمجھوتے کے بعد سے ایران کو قریباً سات ارب ڈالرز تک ریلیف ملا ہے اور مغربی ممالک نے اس پر عاید کردہ بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کردی ہے۔