تیونس میں انقلاب کی تیسری سالگرہ کی تقریب کا خاموشی سے انعقاد
نئے آئین کی پارلیمان میں منظوری میں مسلسل تاخیر
عرب بہاریہ تحریکوں کی جائے پیدائش تیونس میں انقلاب کی تیسری سالگرہ کے موقع پر کوئی زیادہ جوش وخروش نظر نہیں آیا اور ملک کی قیادت نے بڑی خاموشی سے منعقد کی جانے والی تقریب میں شرکت کی ہے جبکہ نئے آئین کی پارلیمان میں منظوری میں مسلسل تاخیر ہورہی ہے اور اس کے بارے میں کنفیوژن پایا جارہا ہے۔
انقلاب کی تیسری سالگرہ کی تقریب میں صدر منصف مرزوقی ،سبکدوش ہونے والے وزیراعظم علی العریض اورنامزد وزیراعظم مہدی جمعہ نے دارالحکومت تیونس کے علاقے قصبہ میں ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔
واضح رہے کہ تیونس کے سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی 14 جنوری 2011ء کو اپنے خلاف عوامی احتجاج تحریک کے بعد اقتدار چھوڑ کر سعودی عرب بھاگ گئے تھے۔ان کے خلاف تیونس کے حبیب بورقیبہ ایونیو میں احتجاجی مظاہروں کا مرکز تھا اور آج بھی اسی چوک میں اسلامی جماعت النہضہ کے حامی مظاہرے کررہے ہیں۔
تیونس میں عرب بہاریہ انقلاب کی سالگرہ ایسے وقت میں منائی جارہی ہے جب ملک کے نئے آئین کی پارلیمان میں منظوری میں ایک مرتبہ پھر تاخیر ہوگئی ہےاور پارلیمان کے ارکان اس کی ایک تہائی دفعات اس کی توثیق نہیں کرسکے ہیں۔
تیونسی صدر منصف مرزوقی نے سوموار کی شب ایک نشری تقریر میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ تین سال قبل جن امیدوں اور توقعات کے ساتھ انقلاب برپا کیا گیا تھا،قوم کے رہ نما ان کو پورا نہیں کرسکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم انقلاب کے مقاصد کا ادراک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔تاہم انھوں نے انقلاب کے ''معجزے'' کو سراہا جس کے نتیجے میں ''آزادی،سلامتی اور جدیدت'' کا تحفظ ہوا ہے۔
تیونس میں اکتوبر2011ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں النہضہ نے اکثریت حاصل کی تھی اور صدر مرزوقی کی سیکولر جماعت کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی لیکن یہ حکومت ملک سے بے روزگاری اورغربت کے خاتمے کے لیےعوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے۔
النہضہ کے وزیراعظم علی العریض حزب اختلاف کے ساتھ طے پائے معاہدے کے تحت گذشتہ ہفتے مستعفی ہوگئے تھے۔علی العریض کی جگہ اب آیندہ ہفتے تک نامزد وزیراعظم مہدی جمعہ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی کابینہ بنائیں گے جو نئے آئین اورنئے قوانین کے تحت ملک میں پارلیمانی انتخابات کرائے گی۔