.

بیرون ملک برسرپیکار سعودی جہادیوں کو 3 سے20 سال جیل

دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونین کو کڑی سزائیں دی جائیں گی:شامی فرمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے بیرون ملک جنگوں یا خانہ جنگیوں میں شریک اپنے شہریوں اور انتہاپسند مذہبی گروہوں کے ارکان کے لیے قصوروار ثابت ہونے کی صورت میں تین سے بیس سال تک قید کی سزا مقرر کی ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک فرمان نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت کرنے والے افراد کو بھی قصوروار ثابت ہونے پر بھاری سزائیں سنائی جائیں گی۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق سعودی مملکت کی تین وزارتوں داخلہ ،خارجہ امور اور انصاف کی ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی ہے جو انتہا پسند گروپوں کی ایک فہرست تیار کرے گی اور ان کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔

سعودی عرب میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہفتے کے روز ہی نیا قانون نافذ کیا گیا ہے۔چالیس شقوں پر مشتمل اس قانون کا بڑا مقصد دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنا اور اس میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینا ہے۔اس میں دہشت گردی کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ مجرمانہ محرکات پر مبنی ایسا کوئی بھی فعل جس سے بالواسطہ یا بلا واسطہ امن عامہ،ریاست کی سلامتی اور استحکام میں خلل پڑے یا قومی سلامتی خطرات سے دوچار ہوجائے تو یہ دہشت گردی ہے۔

اس قانون کے تحت سکیورٹی فورسز کو کسی بھی مشتبہ شخص کو چھے ماہ تک زیرحراست رکھنے کا حق مل گیا ہے اور ایسے افراد کی حراستی مدت میں مزید چھے ماہ تک توسیع کی جاسکتی ہے۔قانون میں وزارت داخلہ کو دہشت گردی سے متعلق جرائم کے مرتکب مشتبہ افراد کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ واعظین اور مبلغین کی تقریروں سے متاثر ہونے والے سعودی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے باغیوں کے ساتھ مل کر سرکاری فوج کے خلاف محاذ آراء ہے۔

اسلامی تحریکوں کے ایک سعودی ماہر فارس بن ہزم نے نومبر میں العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ شام میں کم سے کم چھے سو سعودی القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپوں میں شامل ہوچکے ہیں اور وہ شامی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا تھا کہ بہت سے سعودی دولت اسلامی عراق وشام( داعش) اور النصرۃ محاذ کی صفوں میں شامل ہیں لیکن شام میں جاری خانہ جنگی میں شریک سعودیوں کی تعداد دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔تاہم ان کے بہ قول سعودیوں میں القاعدہ کے ساتھ وابستگی کی صورت میں لاحق ہونے والے خطرات کے بارے میں اب بہت آگہی پائِی جاتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ شامی مسلح انقلاب کو اب مزید جنگجوؤں کے بجائے مالی امداد کی ضرورت ہے۔