.

کم سن فرانسیسیوں کی شامی جنگ میں شرکت رکوانے کے لئے علماء متحرک

شام کی جنگ میں سات سو فرانسیسی نوجوانوں کی شرکت: کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے میدان جنگ میں غیرملکیوں کی مداخلت روکنے کے لیے عالمی سطح پر سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شام میں جاری لڑائی میں غیر ملکیوں کی شمولیت کی روک تھام کے لیے سعودی عرب اور برطانیہ کے سخت فیصلوں کے بعد فرانس میں بھی علماء نے ایسے گروپوں اور عناصر سے ناطہ توڑنے کی اپیل کی ہے جو جہاد کے نام پر نوجوانوں کو ورغلاء کر شام لے جا رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں مشرقی پیرس میں "مونٹوی" کے مقام پر منعقد ہونے والی علماء کانفرنس میں فرانس کے جید علماء کرام، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور اسلامی تنظیموں کے ارکان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تمام شرکاء فرانسیسی نوجوانوں کو جہاد کے نام پر شام لے جانے کے فلسفے، تکفیری فتاوی اور شام میں جہاد کے مخالفین کو کافر قرار دینے والے عناصر کے خلاف یک آواز دکھائی دیئے۔

شرکاء اجتماع نے فرانسیسی نوجوانوں کی شامی محاذ جنگ میں شرکت کو خوفناک رحجان قرار دیتے ہوئے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ نوجوانوں کو ورغلانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے اور جہاد کے نام پر مسلمان نوجوانوں کو شام لے جانے سے روکا جائے۔

اس موقع پر اسلامی تنظیموں کے نمائندگان نے کہا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے شام سے جہاد کے لیے اپیلیں کی جاتی ہیں۔ ان اپیلوں کے جواب میں شدت پسند گروپ دوسرے ملکوں سے نوجوانوں کو جنگ کے لیے بھرتی کرتے ہیں۔ لہٰذا انٹرنیٹ کے ذریعے بھرتی کی مہمات پر کڑی نظر رکھی جائے۔

پیرس کانفرنس میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 700 فرانسیسی مسلمان شام کے محاذ جنگ میں شریک ہوچکے ہیں۔ فرانسیسی وزارت داخلہ میں اسلامی امور کے سربراہ بیرنار گوڈار نے بتایا کہ فرانس سے شام میں جہاد کے لیے جانے والے 700 افراد اب بھی وہاں موجود ہیں۔ سیکڑوں جنگ میں شمولیت کے لیے جانے کو تیار ہیں لیکن انہیں ہم نے روک رکھا ہے۔ اس کےعلاوہ شام سےواپس آنے والوں کو بھی دوبارہ واپسی سے روکا جا رہا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والےادارے ایسے عناصر کا مسلسل تعاقب کر رہے ہیں تاکہ شہریوں کو جہاد کی آڑ میں شام کی جنگ میں نہ جھونکا جا سکے۔

اس موقع پرعلماء نے شام کی جنگ میں نوجوانوں کی شرکت کے اسباب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندوں کی جانب سے منظم طریقے سے نوخیز نوجوانوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور انہیں شام میں جہاد کے فضائل بتا کر جنگ میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ علماء نے فرانسیسی مسلمانوں کے شام کی جنگ میں شرکت کی روک تھام کی ذمہ داری پیرس حکومت پرعائد کی اور کہا کہ ہم ایک عرصے سے حکومت کو اس معاملے میں خبردار کر رہے ہیں لیکن ان کی کوئی بات سنی نہیں گئی۔

پیرس کے ایک ممتاز عالم دین الشیخ حسن شلغومی نے سعودی عرب کی جانب سے شام میں "جہاد" پر جانے پر پابندی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دوسرے ممالک کو بھی ریاض کی پیروی کرنی چاہیے۔