.

سری لنکن خواتین کی بیرون ملک خادمہ کے طور پر ملازمت ممنوع قرار

کولمبو بیرون ملک گھریلو خادماوں سے متعلق شکایات پر نالاں تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سری لنکا کی حکومت نے اپنے خواتین شہریوں کو بیرون ملک گھریلو ملازمہ کے طور خدمات فراہمی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کویت میں متعین سری لنکن سفیر سی اے ویگرانٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے شہریوں کو کسی بھی دوسرے ملک بالخصوس مشرق وسطیٰ میں گھریلو ملازمت کے لیے بھجوانے پر پابندی کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

ملائیشین خبررساں ایجنسی "برناما" کے مطابق سری لنکن سفیر نے اعتراف کیا نے کہ دوسرے ملکوں میں گھریلو ملازمت کے پیشے سے وابستہ ان کے شہریوں کے بارے میں مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک گھریلو ملازمائیں میزبان ملک کے سماج پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں، جس کے بعد حکومت نے اپنے شہریوں کی بیرون ملک گھریلو ملازمت کے لیے سفر پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

سفیر سی اے ویگیرانٹی کا کہنا تھا کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے شہریوں کو بیرون ملک گھریلو ملازمت کے لیے سفر سے روکا نہیں گیا ہے تاہم جلد ہی یہ فیصلہ سامنے آنے کا امکان ہے کیونکہ حکومت اس تجویز پرعمل درآمد کا قطعی فیصلہ کرچکی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سری لنکا کے کویت میں سفیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اپنے شہریوں کے دوسرے ملکوں میں گھریلو ملازمت کی بھاری قیمت چکا چکا ہے۔ ہمارے شہری بالخصوص عورتیں بیرون ملک کام کے دوران منفی تاثر چھوڑ رہی ہیں، جس سے ہماری بدنامی ہو رہی ہے۔ اس لیے اب ہم گھریلو ملازمت کے لیے اپنے شہریوں کو بیرون ملک نہیں بھجوائیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ ہفتے کویت میں ایک سری لنکن گھریلو خادمہ نے اپنے کفیل کے گھر کو تیل چھڑک کر آگ لگا دی تھی۔ بعد ازاں خاتون نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اس کا مالک اس کےساتھ بدسلوکی کا ارتکاب کرتا تھا جس کا انتقام لینے کی خاطر اس نے ایسا کیا ہے۔

خیال رہے کہ جنوری 2014ء کو سری لنکن حکومت اور سعودی عرب کےدرمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت سری لنکا سعودی عرب میں بارہ مختلف پیشوں کے لیے اپنے شہریوں کی خدمات فراہم کرے گا۔ اس میں گھریلو ملازم، ڈرائیور، خاکروب اور دوسرے پیشوں کے افراد شامل ہیں۔ سری لنکن حکومت کی جانب سے اپنے شہریوں کو مشرق وسطیٰ نہ بھجوانے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب اس کے بارہ لاکھ شہری پہلے ہی مشرق وسطیٰ کے ممالک میں موجود ہیں۔ ان کی اکثریت گھریلو خادموں ہی پر مشتمل ہے۔