.

یوکرین کے خودمختارعلاقے کریمیا میں ریفرنڈم کا انعقاد

مغربی ممالک ریفرینڈم کی مخالفت جبکہ روس حمایت کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین کے علاقے کریمیا میں اس بات پر ریفرینڈم ہو رہا ہے کہ آیا یہ خطہ روس کے ساتھ ایک بار پھر الحاق کرے یا پھر یوکرین کا حصہ رہے۔

اتوار کے روز ہونے والے اس ریفرینڈم کو مغربی ممالک اور یوکرین نے ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے جبکہ روس اس کی حمایت کر رہا ہے۔

نسلی اعتبار سے روسی اکثریت والے کریمیا میں روسی فوج نے زمینی کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ووٹرز یوکرین چھوڑ کر روس سے الحاق کے حق میں ووٹ دیں گے۔

کریمیا کے مقامی تاتر افراد اس ریفرینڈم کا بائیکاٹ کر رہے ہیں اور وہ یوکرین دارالحکومت کیف کے ساتھ اپنے اتحاد پر قائم ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل روس نے سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا جس میں اس ریفرینڈم کی تنقید کی گئی تھی۔ روس واحد ملک ہے جس نے اس کی مخالفت کی۔

امریکا کی اس مجوزہ قرارداد کی 13 ممالک نے حمایت کی جبکہ چین نے اس میں شرکت نہیں کی کیونکہ اسے اس معاملے پر روس کا حامی تصور کیا جاتا ہے۔

ادھر امریکا اور یورپی یونین نے کہا ہے کہ اگر یہ ریفرینڈم ہوتا ہے تو روسی حکام کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔

یاد رہے کہ یوکرین میں ماسکو حامی صدر وکٹر یانوکووچ کے 22 فروری کو صدارت سے ہٹنے کے بعد روس نے یوکرین کے کرائمیا علاقے میں حکومت کی عمارتوں پر قبضہ کر لیا اور یوکرین کی فوج کو بیرکوں تک محدود کر دیا۔

درایں اثنا کریملین کے حکام نے اضافی فوج کی تعیناتی سے انکار کیا ہے اور وہاں موجود فوج کو کرائمیا کی ’سیلف ڈیفنس فورس‘ کا نام دیا ہے۔

دوسری جانب کیف نے روس پر کرائمیا کے شمال میں واقع گاؤں پر قبضے کا الزام لگایا ہے اور اسے ’فوجی حملے‘ سے تعبیر کیا ہے۔

ادھر روس کے دارالحکومت ماسکو میں یوکرین میں روسی عمل دخل کی حمایت اور مخالفت میں ہزاروں لوگوں نے علیحدہ علیحدہ ریلیاں نکالیں۔

یوکرین حامی مظاہرین نے روس حامی ریلیوں کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیا۔

اطلاعات کے مطابق کریمیا میں پولنگ سٹینشن مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے کھلے تھے اور ووٹنگ کا عمل بارہ گھنٹے تک جاری رہے گا۔

اس میں ووٹروں سے پوچھا گیا ہے کہ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ کریمیا پھر سے روس میں شامل ہو جائے۔