.

سیاسی مخالفین اپنے کیے کی قیمت دیں گے: ایردوآن

حکمران آق پارٹی 45 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے بلدیاتی انتخابات میں اپنی پارٹی کی جیت کا پُر زور اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی حکومت کے خلاف سازش کرنے والے 'سیاسی دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔'

سنہ 2001 ء میں معرض وجود میں آنے والی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی [آق] نے اب تک منعقد ہونے والے ہر الیکشن میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے گزشتہ روز کے بلدیاتی انتخابات کو جماعت آق کی ایک شاندار فتح قرار دیا ہے۔ انقرہ میں اپنی پارٹی کے ہیڈکواٹرز کی بالکونی سے فاتحانہ تقریر میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن کا کہنا تھا، "سب سے پہلے میں اپنی فتح کے لیے خدائے رب العزت کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں‘‘ ۔

ایردوآن کچھ عرصے سے بدعنوانی کے متعدد اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد غیر معمولی دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ گزشتہ روز کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بارے میں بھی مبصرین اور تجزیہ کاروں کی طرف سے ملے جُلے تاثرات سامنے آ رہے تھے۔ ایک سیاسی حلقے کی طرف سے اس الیکشن کو ایردوآن حکومت کے لیے ریفرنڈم قرار دیا جا رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ایردوآن کی سیاسی جماعت آق پینتالیس فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی جبکہ مرکزی اپوزیشن ری پبلکن پیپلز پارٹی 28.5 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہی۔ اُدھر کردوں کی پارٹی BDP نے ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں اکثریتی ووٹ حاصل کیے۔

اپنے ووٹروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا، ’’آپ سب نے ترکی کی آزادی کی نئی جدوجہد کو گلے لگایا ہے، ملک کے نظریات اور نصب العین کو اپنایا ہے، آپ نے خود اپنا مستقبل، اپنا لیڈر اپنی سیاست کا انتخاب کیا ہے اور اس کے لیے میں آپ سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں‘‘ ۔

قبل ازیں آق پارٹی کی طرف سے توقع کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ وہ سیکولر اپوزیشن کے مقابلے میں استنبول اور دارالحکومت انقرہ سمیت ملک بھر میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ تاہم اعتدال پسند بائیں بازو کی جماعت CHP کے مطابق انقرہ میں مقابلہ کافی سخت رہا۔ ایردوآن کی پارٹی نے نتائج سامنے آنے سے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ کم از کم 2009ء کے بلدیاتی انتخابات میں اپنی کار کردگی کو برقرار رکھے گی۔ تب اُسے لوکل الیکشن میں 38.8 فیصد ووٹ ملے تھے۔

گزشتہ روز کی ووٹنگ ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی جب انقرہ حکومت کی طرف سے سوشل نیٹ ورکنگ میڈیا یو ٹیوب اور ٹوئٹر پر پابندی لگائی جا چُکی تھی۔ اپوزیشن کی تین اہم ترین نیوز ویب سائیٹس کل الیکشن کے دن بند پڑی تھیں اور ان کی طرف سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ حکومت کے سائبر حملوں کا شکار ہیں۔ ایردوآن اپنی حکومت پر لگنے والے بدعنوانی کے الزامات اور متعدد اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کو آق کے ایک سابقہ حامی فتح اللہ گولن کی سازش قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی پشت پناہی میں گولین ان کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے یہ مہم چلا رہے ہیں۔

ایردوآن کے مطابق اُن کے خلاف کرپشن کیسز سے متعلق ریکارڈنگ لیک کرنے میں گولن اور امریکا کا ہاتھ ہے۔ ان ریکارڈنگز کی تصدیق آزاد ذرائع سے نہیں کی جا سکتی ۔ دریں اثناء سوشل نیٹ ورکنگ میڈیا پر ایردوآن کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کے سبب امریکا سمیت مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی طرف سے انقرہ حکومت کی سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ ترکی کو پہلے ہی یورپی یونین کی رکنیت کے حصول میں کئی مسائل کا سامنا۔ یورپی اتحاد کی طرف سے اب تک ترکی میں انسانی حقوق کی صورتحال کو تسلی بخش قرار نہیں دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ترکی میں آئندہ صدارتی انتخابات کا انعقاد اگست میں ہونا ہے تاہم مبصرین کے خیال میں ملک میں بدعنوانی سے متعلق حکومت مخالف مہم اور سیاسی عدم استحکام اس الیکشن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔