.

ایران صرف دوماہ میں جوہری بم تیار کرسکتا ہے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ ایران اگر جوہری بم بنانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے پاس دوماہ میں جوہری بم کی تیاری کے لیے درکار ایندھن پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کی اطلاع کے مطابق جان کیری نے منگل کو سینیٹ کی ایک کمیٹی کے روبرو کہا:''میرے خیال میں یہ آج علم عامہ ہے کہ ہم ''بریک آؤٹ'' سے صرف دوماہ کے فاصلے پر ہیں۔ایران اگر ایک جوہری ہتھیار بنانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے درکار ایندھن (افزودہ یورینیم) کی تیاری میں اس کو صرف دوماہ لگیں گے''۔

جان کیری کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام میں پیش رفت کے حوالے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن اور ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف ویانا میں جوہری تنازعے سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے سلسلہ میں منگل اور بدھ کو بات چیت کررہے تھے۔اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران یورینیم کی افزدوگی کی تمام سرگرمیوں کو محدود کردے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید اقتصادی پابندیاں بتدریج نرم یا ختم کردی جائیں گی۔

کیتھرین آشٹن ایران کے ساتھ مذاکرات میں چھے بڑی طاقتوں (امریکا،برطانیہ ،روس ،فرانس ،چین اور جرمنی) کی نمائندگی کررہی ہیں۔امریکا اور مغربی طاقتیں ایران کو جوہری بم کی تیاری سے باز رکھنا چاہتے ہیں اور وہ اس کے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو اس انداز میں محدود کرنا چاہتے ہیں کہ اگر وہ جوہری بم بنانا چاہے تو اس کے لیے درکار ایندھن کی تیاری میں اس کو کم سے کم ایک سال کا وقت لگے۔

امریکی وزیرخارجہ کے بہ قول فی الوقت ایران دوماہ کے عرصے میں ایک جوہری بم کے لیے درکار افزودہ یورینیم تیار کرسکتا ہے۔امریکا،اسرائیل اور ان کے مغربی اتحادی ایران کے بارے میں اس شک کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ وہ جوہری بم تیار کرنا چاہتے ہیں لیکن ایران کا یہ موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔واضح رہے کہ فریقین نے اب تک جوہری مذاکرات میں اپنے اپنے اس موقف کی وضاحت کے لیے ہی دلائل پیش کیے اور نکات اٹھائے ہیں۔

مغربی طاقتیں ایران سے جوہری پروگرام کے بارے میں شکوک دور کرنے اور اس کو مزید شفاف بنانے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں اور اس نے حالیہ مہینوں کے دوران ویانا میں قائم عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ مذاکرات میں اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے اور جوہری عمل کو شفاف بنانے کے لیے سات عملی اقدامات سے اتفاق کیا تھا اور ان پر 15 مئی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں 24 نومبر2013ء کو جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور اس کے بدلے میں پابندیوں کے خاتمے سے متعلق چھے ماہ کے لیے عبوری سمجھوتا طے پایا تھا۔اس پر جنوری سے عمل درآمد ہورہا ہے اور جولائی میں یہ ختم ہوجائے گا۔اس سے پہلے اب اب فریقین کے درمیان حتمی معاہدے کے مسودے پر بات چیت جاری ہے۔واضح رہے کہ اعتدال پسند حسن روحانی کے گذشتہ سال بطور صدر انتخاب کے بعد سے ایران کے مغرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے اور اس پر عایدکردہ قتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔