.

'داعش' ایرانی سرحد سے 180 کلومیٹر کی دوری پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ نواز انتہا پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' کے عراقی شہروں میں بڑھتے ہوئے نفوذ نے ایران میں عوامی اور حکومتی سطح پر کھبلی مچا دی ہے۔

پاسداران انقلاب کے ہم خیال خبر رساں ادارے 'فارس' کے مطابق ایران کی قومی سلامتی سے متعلق سپریم کونسل نے علاقے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا خصوصی جائزہ لینے کے لئے تہران میں اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم 'فارس' نے اس بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی، تاہم خبر رساں ایجنسی 'تسنیم' نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اجلاس میں عراق کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

ادھر عراق میں داعش کی مسلسل پیش قدمی سے ایران کے عوامی حلقے بھی پریشان ہیں کیونکہ القاعدہ نواز سنی تنظیم کے جنگجو اپنی حالیہ پیش قدمی کے بعد عراق۔ایران سرحد سے 180 کلومیٹر دور رہ گئے ہیں۔
تنظیم کے ایک عہدیدار ابوبکر البغدادی کی جانب سے شام کے بعد عراق میں جاری لڑائی کو ایرانی علاقے میں دھکیلنے کی

دھمکیوں سے ایرانی عوام زیادہ مضطرب ہیں۔ پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف اور امیگریشن حکام نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ کسی 'دہشت گرد' تنظیم نے ہماری سرحد کی خلاف ورزی نہیں کی۔
ایرانیوں کے عراق سفر پر پابندی

ادھر وزارت حج اور امیگریشن نے مقامات مقدسہ کی زیارتوں کے لئے عراق میں موجود ایرانیوں کے اہل خانہ کو ان کے پیاروں کے تحفظ کا یقین دلاتے ہوئے پیش آئند زائرین کو ہدایت کی ہے کہ وہ تا اطلاع ثانی عراق کا سفر نہ کریں، اس لئے ایران سے عراق جانے والے تمام شیعہ قافلے اور پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

ایران نے بدھ کے روز عراق کے ساتھ اپنی سرحد بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی کردستان کی عراق سے ساتھ ملنے والی 220 کلومیٹر لمبی سرحد پر فوج تعینات کر دی تھی۔

درایں اثنا ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے نشری خطاب میں واضح کیا ہے کہ ان کا ملک علاقے سمیت پوری دنیا میں تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرے گا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی 'ایسنا' کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے عراقی ہم منصب ھوشیار زیباری سے ٹیلی فون پر عراق کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ 'تکفیری دہشت گردی' کا مقابلہ کرنے کے لئے عراق کی مدد کرے۔