عراق میں 40 بھارتی تعمیراتی ورکر لاپتا،اغوا کا شُبہ

اغوا کاروں اور یرغمالیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں: ترجمان وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں کام کرنے والے چالیس بھارتی تعمیراتی ورکروں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے بدھ کو ایک نیوز بریفنگ کے دوران ان تعمیراتی مزدوروں کے اغوا کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ ان کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور نہ ان کے اغوا کاروں کی شناخت کا کچھ پتا چل سکا ہے۔

موصل اور عراق کے شمالی علاقے میں واقع دوسرے شہروں اور قصبوں پر دولت اسلامی عراق اور شام (داعش) اور اس کے اتحادی مسلح قبائلیوں نے گذشتہ ہفتے کے دوران سرکاری فوج سے لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔بھارتی حکومت نے گذشتہ سوموار کو ایک بیان میں عراق میں اسلامی جنگجوؤں کی مزاحمتی سرگرمیوں کی مذمت کی تھی اور وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کی حمایت کا اظہار کیا تھا حالانکہ بھارت روایتی طور پر غیر جانبداری کی سفارت کاری پر عمل پیرا رہا ہے لیکن اس نے اس روایت کو توڑتے ہوئے اسلامی جنگجوؤں کے مقابلے میں بغداد حکومت کی حمایت کی تھی۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ موصل میں کام کرنے والے بھارتی ورکروں کو کیوں اغوا کیا گیا ہے۔ترجمان اکبرالدین نے انجمن ہلال احمر (ریڈ کریسنٹ) کے حوالے سے ان کے اغوا کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ہم بھارتی شہریوں کی مدد میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔

ترجمان کے مطابق اغوا ہونے والے زیادہ تر بھارتیوں کا تعلق ریاست پنجاب سے ہے اور وہ بغداد سے تعلق رکھنے والی کمپنی طارق نور الہدیٰ کے لیے کام کررہے تھے۔اس کمپنی کے ایک سابق ملازم نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ موصل میں بھارتی محفوظ نہیں تھے۔ اس لیے انھیں کمپنی نے کردوں کے کنٹرول والے علاقوں میں منتقل کردیا ہے لیکن رائیٹرز نے عراقی کمپنی کے حوالے سے اس اطلاع کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت عراق میں قریباً دس ہزار بھارتی شہری مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں لیکن وہ زیادہ تر داعش اور عراقی فوج کے درمیان لڑائی سے غیر متاثرہ علاقوں میں کام کررہے ہیں۔وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق قریباً ایک سو بھارتی ورکر لڑائی والے علاقوں میں پھنس کررہ گئے ہیں۔ان میں چھیالیس نرسیں ہیں۔بھارتی حکومت ان سے رابطے میں ہے اور ایک سینیر سفارت کار کو ان کی ملک واپسی میں معاونت کے لیے بغداد بھیجا ہے۔

بھارتی نرسیں سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں ایک اسپتال میں کام کرتی ہیں۔اس شہر پر بھی گذشتہ ہفتے داعش کے جنگجوؤں نے قبضہ کرلیا تھا۔ان نرسوں نے بھارتی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سرکاری فوج اور جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں زخمی ہوکر آنے والے افراد کا علاج کررہی ہیں۔انجمن ہلال احمر نے بھی ان سے رابطہ کیا ہے اور وہ ان کو معاونت مہیا کررہی ہے۔

داعش اور دوسرے باغی گروپوں نے حالیہ دنوں کے دوران عراق کے شمالی شہروں سے دسیوں غیر ملکیوں کو اغوا کیا ہے۔ترکی کی دوغان نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق انھوں نے تیل کی دولت سے مالا مال شمالی شہر کرکوک میں ایک زیر تعمیر اسپتال کی جگہ سے ساٹھ غیرملکیوں کو اغوا کر لیا ہے۔ان میں ترکی ،پاکستان ،بنگلہ دیش ،نیپال اور ترکمانستان کے شہری شامل ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ ہفتے موصل میں ترکی کے قونصل خانے پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے سفارت کاروں ،فوجیوں اور بچوں سیت اسّی ترک شہریوں کو اغوا کر کے ساتھ لے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں