.

یمنی فوج اور شیعہ باغیوں میں جھڑپیں ،13 ہلاک

شمالی شہر عمران میں جنگ بندی کے بعد دوبارہ لڑائی چھڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شمالی شہر عمران میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور حوثی شیعہ باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں تیرہ شہری مارے گئے ہیں۔

یمنی حکام کے مطابق فوج اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں متعدد مکانات تباہ ہوگئے ہیں اور ان کے ملبے سے تیرہ لاشیں نکالی گئی ہیں۔مرنے والوں میں پانچ بچے اور دو خواتین شامل ہیں۔

ایک قبائلی سردار نے بتایا ہے کہ حوثی باغیوں نے منگل کی رات شہر کے مغربی حصے میں واقع جامعہ عمران کے نزدیک سرکاری سکیورٹی فورسز پر حملہ کردیا تھا جس کے بعد ان کے درمیان لڑائی چھڑ گئی۔دونوں جانب سے گولہ باری کے نتیجے میں متعدد مکانات اور دکانیں تباہ ہوگئی ہیں۔

حوثی باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان گذشتہ ہفتے تازہ لڑائی شروع ہوئی تھی۔قریباً تین ہفتے قبل یمن میں اقوام متحدہ کے ایلچی جمال بن عمر کی ثالثی میں فریقین نے جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا لیکن یہ جنگ بندی صرف گیارہ روز تک ہی برقرار رہ سکی ہے۔

حوثی باغیوں کی یمنی فوج اور حکومت کے حامی سنی قبائل کے ساتھ گذشتہ سال اکتوبر سے صنعا سے شمال میں واقع صوبے صعدہ اور دوسرے دوردراز شمالی پہاڑی علاقوں میں وقفے وقفے سے جھڑپیں ہورہی ہیں اور حوثی باغی صنعا کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔صنعا اور صعدہ کے درمیان واقع علاقے میں حوثیوں کے ہم فرقہ زیدی اہل تشیع کی اکثریت آباد ہے اور ان کی اس چڑھائی کا بڑا مقصد شمالی یمن میں خودمختاری کے حصول کے لیے اپنی تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔

حوثی باغی یمن کے شمالی صوبوں صعدہ اور عمران میں خودمختاری کے لیے ہتھیار بند ہیں۔حوثی باغیوں کو حکومت نواز زیدی قبائل کے علاوہ راسخ العقیدہ اہل سنت کی جانب سے سخت مزاحمت درپیش ہے۔اہل سنت نے اہل تشیع کے اثرورسوخ کو کم کرنے کے لیے ملک کے شمالی علاقوں میں اپنے متعدد مدارس قائم کیے ہیں اور ان دونوں مذہبی گروہوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں متعدد مرتبہ خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔

واضح رہے کہ یمن کی مرکزی حکومت 2012ء میں سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کی عوامی بغاوت کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے ملک میں قیام امن کے لیے کوشاں ہے۔ملک کے جنوب مشرقی اور وسطی صوبوں میں شورش پسند قبائلیوں ،جنوب میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور شمال میں حوثی شیعہ باغیوں نے علم بغاوت بلند کررکھا ہے۔یمن سب سے خطرناک جنگجو تنظیم''جزیرہ نماعرب میں القاعدہ''کا گڑھ بھی ہے۔یمنی فوج نے حالیہ مہینوں کے دوران القاعدہ کے بیسیوں جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔