بھارت کے اہلِ تشیع عراق جنگ میں کُودنے کو تیار
مقاماتِ مقدسہ کے دفاع کے لیے ایک لاکھ افراد کے فارموں پر دستخط
بھارت کے ہزاروں اہل تشیع بھی عراق جنگ میں کُودنے کے لیے بالکل تیار ہیں اور انھوں نے ایک تنظیم کے پاس عراق میں مقامات مقدسہ کے دفاع کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرادیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ضرورت پیش آنے پر سنی اسلامی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے لیے بھی تیار ہوں گے۔
انجمن حیدری نامی ایک مذہبی تنظیم شیعہ نوجوانوں کو عراق کے سفر پر روانہ کرنے کے لیے منظم کررہی ہے۔عراق جانے کے خواہاں ہزاروں افراد نے تنظیم کے وضع کردہ فارم پُرکردیے ہیں،ان پر ان کی پاسپورٹ سائز کی تصویریں چسپاں کی گئی ہیں اور ان کی شناختی دستاویزات کی نقول بھی منسلک کی گئی ہیں۔انجمن کا کہنا ہے کہ وہ ان فارموں کو جمع کرانے کے لیے جمعہ کو دارالحکومت نئی دہلی میں واقع عراقی سفارت خانے کی جانب مارچ کرے گی۔
ایک شیعہ عالم دین اس تمام تحریک کی قیادت کررہے ہیں اور اس میں شامل ہونے والے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں مقاماتِ مقدسہ کا تحفظ چاہتے ہیں اور ان کا نصب العین فرقہ وارانہ نہیں ہے۔اس گروپ کا ہیڈکوارٹر بھارتی دارالحکومت کے کربلا روڈ پر واقع ہے۔
وہ وہاں کچھ کتبے اور سائن بورڈ بھی تیار کررہے ہیں جن پر لکھا ہے:''یہ شیعہ بمقابلہ سنی نہیں ہے بلکہ یہ عراقی بمقابلہ دہشت گرد ہے''۔اس گروپ کےایک سینیر رکن سید بلال حسین عابدی کا کہنا ہے کہ ''وہ (مراد داعش کے جنگجو) مسلمان نہیں ہیں۔جہاد کا مطلب دفاع کرنا ہے،اس کا مطلب قتل کرنا نہیں ہے''۔
ان صاحب کا کہنا تھا کہ ''ہم انسانی زنجیر بنانے کے لیے عراق کا سفر کرسکتے ہیں،ہم لوگوں کو تشدد سے بچانے کے لیے انسانی زنجیر بنا سکتے ہیں ،ہم انھیں پانی مہیا کریں گے اور خون کے عطیات دیں گے اور اپنے مزارات کو بچانے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں''۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان شیعہ رضاکاروں کو عراق جانے کے لیے ویزے جاری کیے جاتے ہیں یا نہیں۔عراقی سفارت خانے کے حکام نے فوری طور پر اس تحریک کے کارکنان کو ویزے جاری کرنے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
البتہ بھارتی وزارت خارجہ نے اگلے روز ہی کہا تھا کہ ہندوستانی شہریوں کو عراق کی سکیورٹی کی ابتر صورت حال کے پیش نظر وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور چالیس بھارتیوں کو پہلے ہی وہاں یرغمال بنایا جاچکا ہے اور ان کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ان کے علاوہ چھیالیس بھارتی نرسیں بھی شمالی شہر تکریت کے اسپتالوں میں محصور ہوکررہ گئی ہیں۔
اس صورت حال میں اس گروپ کے جنرل سیکریٹری بہادر عباس نقوی کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کا چونکہ اپنی فورسز عراق بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔اس لیے ان کے حامیوں کے پاس ازخود عراق کا رُخ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
اس گروپ کے وضع کردہ فارم پر دستخط کرنے والوں میں انجنئیرز اور طلبہ سے لے کر پولیس افسروں تک شامل ہیں۔اس کی عبارت میں کہا گیا ہے کہ ''میں اس بات میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ عراق میں معروف دہشت گرد گروپوں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں سمیت ہر قسم کی دہشت گردی سے نہ صرف عراقیوں کو (بلاتمیز مذہب) سنجیدہ خطرات لاحق ہیں بلکہ ان سے پوری انسانیت کو خطرہ لاحق ہے''۔
اس گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے بھارت بھر سے عراق جانے کے خواہاں ایک لاکھ افراد کے دستخط حاصل کر لیے ہیں اور اس نے دہلی اور دوسرے شہروں میں دہشت گردی کے خلاف متعدد مظاہرے بھی کیے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں مسلمانوں اقلیت میں ہیں اور ان کی تعداد کل آبادی کا صرف 15 فی صد ہے لیکن اس کے باوجود ان کی آبادی ساڑھے سترہ کروڑ سے زیادہ ہے اور بھارت دنیا میں مسلمانوں کی آبادی کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہے۔
-
عراق میں 40 بھارتی تعمیراتی ورکر لاپتا،اغوا کا شُبہ
اغوا کاروں اور یرغمالیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں: ترجمان وزارت خارجہ
بين الاقوامى -
ایرانی جاسوس ڈرونز کی عراق میں پروازیں
''القدس فورس'' کے افسران بھی پہنچ گئے، فوجی امداد کی فراہمی شروع
مشرق وسطی -
عراق: نامعلوم طیاروں کی داعش کے ٹھکانوں پر بمباری
عراق کے شمالی شہر القائم میں نامعلوم جنگی طیاروں نے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) ...
مشرق وسطی -
عراق کے وجود کو داعش سے خطرات لاحق ہیں: جان کیری
داعش کے جنگجوؤں کا شامی سرحد کے نزدیک واقع شمالی شہر تل عفر پر مکمل قبضہ
مشرق وسطی -
عراق میں سکیورٹی کی ابتر صورت حال،کویتی سفیر کی واپسی
کویت نے صورت حال معمول پر آنے تک تمام سفارتی عملہ بھی واپس بلا لیا
مشرق وسطی -
داعش کا عراق کی دو سرحدی گذرگاہوں پر کنٹرول
عراقی فوج نے اردن اور شام کے ساتھ واقع بارڈر کراسنگز پر قبضے کی تصدیق کر دی
مشرق وسطی