لیبیا میں ائیر پورٹ سٹاف کی بمباری کے خلاف ہڑتال

ملک کے مغربی حصوں میں فضائی آپریشن رک گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا کے سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ مغربی لیبیا کے ائیر ٹریفک کنٹرولرز نے دارالحکومت طرابلس کے مرکزی ائیرپورٹ پر بمباری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال شروع کر دی ہے جس کے نتیجے میں ملک کے اکثر حصوں میں پروازوں کا سلسلہ رک گیا ہے۔

ائیر کنٹرولرز کی اس ہڑتال کا مقصد حریف ملیشیائوں پر دبائو ڈالنا ہے تاکہ وہ ملک کے سب سے بڑے ائیر پورٹ پر قبضے کے لئے چار دنوں سے جاری اس لڑائی کو ختم کریں۔ یہ لڑائی پچھلے چھ ماہ کے دوران سب سے بدترین لڑائی سمجھی جا رہی ہے اور اس میں کم سے کم 20 جہازوں کو نقصان پہنچا ہے۔

لیبیا کی وزارت ٹرانسپورٹ کے ترجمان طارق عروہ نے بتایا ہے کہ طرابلس ائیر پورٹ کے ائیر کنٹرولرز نے مغربی لیبیا میں فضائی ٹریفک پر نظر رکھنے والے طرابلس کے کنٹرول ٹاور میں ڈیوٹی انجام دینے انکار کر دیا ہے۔

حکام نے لیبیا کے مغربی شہر مصراتہ سے آنے والی ملیشیا کی جانب سے زنتان کی ملیشیا کے زیر تسلط ائیرپورٹ اور اس کے اردگرد کے علاقے پر حملے کے بعد طرابلس کے بین الاقوامی ائیرپورٹ کو بند کردیا تھا۔

عروہ نے بتایا کہ بدھ کے روز حکام نے مغربی شہر مصراتہ کے ائیر پورٹ کو حملے کے بعد دوبارہ کھول دیا تھا مگر اس کو اب دوبارہ بند کر دیا جائے گا کیوںکہ طرابلس کے ہی ائیر کنٹرولر مصراتہ میں فضائی ٹریفک کی رہنمائی کرتے ہیں۔

لیبیائی حکومت انتہائی کمزور ہو چکی ہے اور اس کا ان سابق باغی جنگجوئوں پر کوئی کنڑول نہیں رہا۔ ان جنگجووں نے نیٹو کی مدد سے معمر قذافی کے خلاف بغاوت کی جس کی وجہ سے لیبی مرد آہن کو اقتدار سے باہر ہو کر المناک موت کا شکار ہونا پڑا۔ یہ جنگجو اب مختلف ملیشیائوں کا حصہ بن کر ریاستی اتھارٹی کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔

ائیر پورٹ پر قبضے کے لئے جاری اس لڑائی نے تمام پروازوں کو منسوخ کر دیا ہے جس کی وجہ سے بیرون ممالک سے رمضان کے لئے وطن لوٹنے والے لیبیائی شہری باہر جبکہ غیر ملکی شہری طرابلس میں پھنس کر رہے گئے ہیں۔ طرابلس اور مشرقی شہر بن غازی میں شدید لڑائی کے بعد اقوام متحدہ نے بھی اس شمالی افریقا کے شورش زدہ ملک سے اپنے عملے کو نکال لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں